حدیث: (332) مومن سے ترک تعلق کی ممانعت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا:
لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلَاثٌ، فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ
کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان کو عداوتاً چھوڑ رکھے، اگر تین دن گزر جائیں تو اس کو چاہیے کہ اپنے بھائی سے مل کر سلام کرے۔
اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو (مصالحت کے) ثواب میں دونوں شریک ہیں اور اگر سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گناہ گار ہوا اور سلام کرنے والا ترک تعلقات کے گناہ سے بری ہوگیا۔
(سنن ابی داؤد، حدیث:4912 )
حدیث: (333) بھائی بننا ہے تو یہ چھوڑنا ہوگا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے
وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا
اور نہ کسی کی کمزوریاں ڈھونڈو اور نہ لوگوں کی عیب جوئی کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد کرو اور نہ ایک دوسرے سے لاتعلق رہو اور نہ باہم بغض رکھو اور اے اللّٰہ تعالیٰ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔
(صحیح بخاری ، حدیث: 6064)
حدیث: (334) نااتفاقی، لڑائی اور عیب جوئی
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
لاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ: فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ
کسی شخص کو یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے رہے کہ جب دونوں ملیں تو یہ اُس سے وہ اِس سے منہ پھیرلے، ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
(صحیح بخاری ، حدیث: 6077)
حدیث: (335) تانبے کے ناخنوں سے چہرے نوچنے والے
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
شب معراج میرا گزر اس قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہرے اور سینے کھرچ رہے تھے، میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟
عرض کی:
هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ، وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ
یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی آبرو ریزی میں مصروف رہتے تھے۔
(سنن ابی داؤد، حدیث:4878)
حدیث: (336) مسلمان کو گالی دینا کیسا؟
حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
سِبَابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ
مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔
(صحیح بخاری ، حدیث: 48)
حدیث: (337) گالی گلوچ کا وبال کس پر؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
آپس میں ایک دوسرے کو گالی دینے والے دو آدمیوں نے جوکچھ کہا اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوتا ہے اگر مظلوم زیادتی نہ کرے۔
(صحیح مسلم ، حدیث: 68(2587))
حدیث: (338) تعصب
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ
وہ ہم میں سے نہیں جو تعصب کی طرف بلائے، وہ ہم میں سے نہیں جو تعصب میں لڑے اور وہ ہم میں سے نہیں جو تعصب پر مرے۔
(سنن ابی داؤد، حدیث:5121)

