لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ
چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔ (صحیح بخاری،حدیث: 6056)
حدیث:(319)بہترین بندہ کون؟
حضرت عبد الرحمٰن بن غنم اورا سماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بہترین بندے وہ ہیں جنہیں دیکھنے سے اللہ تعالیٰ کی یاد آجائے ۔
وَشِرَارُ عِبَادِ اللهِ الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ، الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ، الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ
اور اللہ تعالیٰ کے بدترین بندے وہ ہیں جو چغلی کریں، دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے، پاک لوگوں میں عیب ڈھونڈنے والے۔(مسند احمد، حدیث: 17998)
حدیث:( 320)قبر کے عذاب کا ایک سبب
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا:
إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ
ان دونوں کو عذاب ہورہا ہے اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہورہا ، ان میں سے ایک اپنے پیشاب (کے چھینٹوں) سے نہیں بچتاتھا اور دوسرا چغل خوری کا مرتکب ہوتا تھا ۔
(صحیح بخاری، حدیث: 218)
حدیث:( 321) غیبت کی مذمّت
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کا گوشت کھائے جانے (یعنی غیبت و چغلی) سے کسی کو روک دے
كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعْتِقَهُ
تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو آگ سے آزاد کردے۔(شعب الایمان،حدیث:7236)
حدیث:(322)غیبت کی حقیقت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیز ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں، ارشاد فرمایا:
ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ
غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہے جو اسے بری لگے، کسی نے عرض کی : اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو کیا اس کو بھی غیبت کہا جائے گا؟ فرمایا: جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہو جبھی تو غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جواس میں موجود نہ ہو تو یہ بہتا ن ہے۔
(صحیح مسلم، حدیث:70(2589))
حدیث:( 323) غیبت زنا سے بھی بدتر
حضرت ابو سعید و حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا
غیبت زنا سے بدتر ہے۔
صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ !غیبت زنا سے بدتر کیوں ہے؟ فرمایا: آدمی زنا کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے معاف فرمادیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرماتا جب تک کہ وہ شخص معاف نہ کردے جس کی غیبت کی گئی ہے۔
(دیکھیے: شعب الایمان،حدیث:6315)
حدیث:( 324) برائی کب جائز ہے؟
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ فاجر کو برا کہنے سے پرہیز کرتے ہو؟ (آخر لوگ اسے کیوں کر پہچانیں گے؟ )
اذْكُرُوهُ بِمَا فِيهِ كَيْ يَعْرِفَهُ النَّاسُ وَيَحْذَرَهُ النَّاسُ
فاجر کی برائیاں بیان کیا کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔(شعب الایمان، حدیث:9219)
Page 56 of 116

