حدیث: (312) پڑوسی کو تکلیف نہ دو!
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ
جو شخص اللّٰہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 6018)
حدیث:(313) ایمان کے تقاضے
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ
جو شخص اللّٰہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے ہمسایہ سے احسان کرے (یعنی حسن سلوک سے پیش آئے) اور جو شخص اللّٰہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللّٰہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ نیک بات کہا کرے یا چپ رہے۔
(صحیح مسلم، حدیث: (77(48)
حدیث: (314) سچ اور جھوٹ کا انجام
حضرت عبداللّٰہ ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا
سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے ، آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور دوزخ میں لے جاتا ہے،آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔
(صحیح مسلم،حدیث:103 (2607))
حدیث: (315)مؤمن ایسا نہیں ہوتا!
حضرت صفوان بن سُلیم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا:کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟
فرمایا: ہاں (ہوسکتا ہے)
پھر عرض کیا گیا: کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟
فرمایا: ہاں (ہوسکتا ہے)
پھر پوچھا گیا:
أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ قَالَ: \" لَا
کیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ فرمایا: نہیں۔
(شعب الایمان،حدیث:4472)
حدیث: (316)جھوٹ کی نحوستت
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا كَذَبَ العَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ المَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ
جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہٹ جاتا ہے۔
(سنن الترمذی، حدیث:1972)
حدیث: (317)مذاق میں بھی جھوٹ کی ممانعت
کمسن صحابی حضرت عبد اللّٰہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ:
ایک مرتبہ میری ماں نے مجھے بلایا اور اس وقت حضورﷺ ہمارے گھر میں موجود تھے، میری ماں نے مجھے بلانے کے لیے کہا: یہاں آؤ تمہیں کچھ دوں گی،
حضور ﷺ نے فرمایا:
تمہارا اسے کیا چیز دینے کا ارادہ ہے؟
عرض کی: میں اسے کھجور دوں گی،
حضور ﷺ نے فرمایا:
أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةٌ
اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تمہارے ذمے جھوٹ لکھا جاتا۔
(سنن ابی داؤد، حدیث:4991)

