Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 54 of 116

حدیث: (303)باپ کی رضا، رب کی رضا

حضرت عبداللّٰہ ابن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ

اللّٰہ تعالیٰ کی رضا مندی باپ کی خوشنودی میں ہے اور الله پاک کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔

(سنن الترمذی، حدیث:1899)

 

حدیث: (304) کبیرہ گناہ

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

یہ کام کبیرہ گناہوں میں سے ہیں:

الشِّرْكُ بِاللّٰهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، قَوْلُ الزُّورِ

اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، کسی کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی قسم کھانا ۔

(دیکھیے: صحیح بخاری، حدیث: 5977)

 

حدیث: (305) صلہ رحمی، باعث وسعتِ رزق

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ نے فرمایا:

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ

جو چاہے کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کی موت میں دیر کی جائے تو وہ صلہ رحمی (یعنی رشتہ داروں سے حسن سلوک) کرے۔

( صحیح بخاری، حدیث: 2067)

 

حدیث: (306) رشتے کاٹنے والا جنت سے محروم

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا و مولیٰ نے فرمایا:

لاَ يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ

رشتے توڑنے والا جنت میں نہ جائے گا۔

(صحیح بخاری، حدیث: 5984)


حدیث: (307) نسب یاد رکھو

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ  نے فرمایا:

تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِي المَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الأَثَرِ

تم اپنے نسب یاد رکھو جس سے اپنے رشتے جوڑو (یعنی رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو) کیونکہ رشتے جوڑنا گھر والوں میں محبت، مال میں برکت اور عمر میں درازی ہے۔

(سنن الترمذی، حدیث:1979)

 

حدیث: (308)رحمتِ الٰہی سے محرومی کا سبب

حضرت عبد اللّٰہ بن ابی اوفیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ  نے فرمایا:

اس قوم پر رحمت نہیں اترتی جس میں قاطع رحم (رشتہ قطع کرنے والا) ہو۔

(دیکھیے: شعب الایمان،حدیث:7590)

 

حدیث: (309) صلہ رحمی کی کامل صورت

حضرت ابن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا

جو شخص رشتہ داروں کے احسان کا بدلہ دیتا ہے وہ صلہ رحمی کرنے والا نہیں بلکہ کامل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب صلہ رحمی نہ کی جائے تو وہ برابر صلہ رحمی کرتا رہے۔

(دیکھیے: صحیح بخاری، حدیث:5991)

 

حدیث: (310) پڑوسی کو ایذا دینا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا:

اللّٰہ تعالیٰ کی قسم ہر گز ایماندار نہ ہوگا، اللّٰہ تعالیٰ کی قسم ہر گز ایماندار نہ ہوگا ، اللّٰہ تعالیٰ کی قسم ہر گز ایماندار نہ ہوگا،عرض کی گئی: یارسول اللّٰہ کون؟

فرمایا:

الَّذِي لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ

وہ شخص جس کا ہمسایہ اس کی آفتوں سے محفوظ نہ ہو۔

(صحیح بخاری،حدیث: 6016)

 

حدیث: (311) ہمسائے کے حقوق کی تاکید

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ  نے فرمایا:

مَا زَالَ يُوصِينِي جِبْرِيلُ بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ

پڑوسی کے لیے جبرائیل (علیہ السلام) مجھے برابر نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اس کو (میرا) وارث بنادیں گے۔

(صحیح بخاری، حدیث: 6014)

Share:
keyboard_arrow_up