حدیث: (299) بیعت کی اہمیت
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
جو اطاعت سے ہاتھ روک لے وہ قیامت میں اللّٰہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس طرح مرا کہ اس کے گلے میں بیعت نہیں وہ جاہلیت کی موت مرا۔
(دیکھیے: صحیح مسلم ،حدیث: 58(1851))
حدیث: (300) صحابہ کرام کی بیعت
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:
بَايَعْنَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي المَنْشَطِ وَالمَكْرَهِ، وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا، لاَ نَخَافُ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ
ہم نے سید عالم ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی کہ ہم ہر بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے خواہ خوشی ہو یا غمی اور حاکم سے حکومت کے لیے نہیں لڑیں گے (جبکہ وہ دین پر قائم ہو) اور حق پر قائم رہیں گے یا حق بات کہیں گے خواہ ہم کسی بھی جگہ ہوں، اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 7199)
باب چہارم: مہلکات
تم ہو شہید و بصیر اور میں گنہ پر دلیر
کھول دو چشم حیا، تم پہ کروڑوں درود
آہ وہ راہ صراط، بندوں کی کتنی بساط
المدد اے راہنما! تم پہ کروڑوں درود
ارشادات باری تعالیٰ
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دُور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بےشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللّٰہ سے ڈرو بےشک اللّٰہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
(پ 26، الحجرات: 11، 12)
ترجمہ کنزالایمان:
اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بےشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ اور کوئی جان جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے ناحق نہ مارو ۔
(پ 15، بنیٓ اسرآءیل: 32، 33)
تو تم نصیحت فرماؤ اگر نصیحت کام دے عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے اور اس سے وہ بڑا بدبخت دور رہے گا جو سب سے بڑی آ گ میں جائے گا پھر نہ اس میں مرے اور نہ جئے۔
(پ 30، الاعلی: 9 تا 13)
حدیث: (301) والدین کی نافرمانی
حضرت ابو بکر ہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
تمام گناہوں میں سے اللّٰہ تعالیٰ جتنے چاہے بخش دے گا مگر ماں باپ کو ستانے کا گناہ نہیں بخشے گا، بیشک اللّٰہ تعالیٰ والدین کے ستانے والے کو موت سے پہلے زندگی ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے۔
(شعب الایمان،حدیث:7506)
حدیث: (302) ماں باپ سے منہ موڑنے کی نحوست
حضرت سہل رضی اللّٰہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا:
بعض بندے ایسے بھی ہیں جن سے اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور نہ انکی طرف نظر رحمت فرمائے گا صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول اللّٰہ ﷺ! وہ کون شخص ہے؟
فرمایا:
مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا
اپنے ماں باپ سے بے تعلق اور بے رغبت ہونے والا۔
(مسند احمد، حدیث:15636)

