Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 51 of 116

حدیث: (284) نرمی کا اجر

حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ  نے فرمایا:

رَحِمَ اللّٰهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى

اللّٰہ تعالیٰ اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جو بیچتے وقت بھی نرمی کرے اور خریدتے وقت بھی اور جب مقروض سے تقاضا کرے ۔

(صحیح بخاری ، حدیث: 2076)

 

حدیث: (285) مقروض کے لیے مہلت یا معافی

حضرت ابو قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم  نے فرمایا:

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ

جو چاہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تکلیفوں سے نجات دے تو وہ تنگدست کو مہلت دے یا (قرض) معاف کردے۔

(صحیح مسلم ، حدیث: 32(1563))

 

حدیث: (286) دوسروں کی چیزیں لوٹانا واجب ہے

حضرت سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا:

عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ

جو چیز بھی ہاتھ نے (عاریت، امانت یا غصب وغیرہ کے ذریعے) لی، اسے ادا کرنا واجب ہے۔

( سنن ابی داؤد، حدیث:3561)

 

حدیث: (287) اوپر والا ہاتھ بہتر ہے

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور  نے صدقے اور بھیک سے بچنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

اليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى، فَاليَدُ العُلْيَا: هِيَ المُنْفِقَةُ، وَالسُّفْلَى: هِيَ السَّائِلَةُ

اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔

(دیکھیے: صحیح بخاری ، حدیث: 1429 ملتقطاً)

 

حدیث: (288) محبوب ترین جگہ مساجد ہیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم  نے فرمایا:

أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا

اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین جگہیں مساجد ہیں اور سب سے نا پسندیدہ جگہ بازار ہیں۔

(صحیح مسلم ،حدیث: 288(671))

 

حدیث: (289) اچھے اور برے خواب

حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ  نے فرمایا:

الرُّؤْيَا الحَسَنَةُ مِنَ اللّٰهِ

اچھا خواب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہے

جب تم خواب میں کوئی اچھی چیز دیکھو تو اپنے پیاروں کے سوا کسی سے بیان نہ کرو اور جب کوئی بری چیز دیکھو تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگو اور تین بار تھوک دو اور اس کے بارے میں کسی کو نہ بتاؤ تو وہ خواب نقصان دہ نہ ہوگا۔ (دیکھیے: صحیح بخاری ، حدیث: 7044)

 

حدیث: (290) دم کرنا جائز ہے

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:

ہم دور جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، ہم نے بارگاہ نبوی میں عرض کی: یارسول اللّٰہ ! آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

ارشاد فرمایا:

اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ

وہ دم بیان کرو، جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس میں کوئی شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔

(صحیح مسلم، حدیث: 64(2200))

 

حدیث: (291) ضروری احتیاطیں

حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم  کو یہ فرماتے سنا کہ:

جب تم رات میں کتوں یا گدھوں کی آوازیں سنو تو مردود شیطان سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے اور جب لوگوں کی آمد و رفت کم ہوجائے تو تم بھی نکلنا کم کردو کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ رات میں اپنی مخلوق میں جسے چاہتا ہے پھیلا دیتا اور دروازے بند کردو اور ان پر اللّٰہ تعالیٰ کا نام لو کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا جسے بند کرتے وقت اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیا جائے

وَغَطُّوا الْجِرَارَ وَأَكْفِئُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكُوا الْقِرَبَ

اور کھانے پینے کے برتن ڈھانک دو اور خالی برتن اوندھے کردو اور مشکیز ے باندھ دو۔

(مشکاۃ المصابیح، حدیث:4302)

Share:
keyboard_arrow_up