Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 50 of 116

حدیث: (274) بُری تجارت

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور کو فرماتے سنا:

مَنْ بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُبَيِّنْهُ، لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللّٰهِ، وَلَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ

جو شخص عیب دار چیز بیچے اور اس کا عیب نہ بتائے وہ ہمیشہ اللّٰہ تعالیٰ کے غضب میں رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۔

(سنن ابن ماجہ،حدیث: 2247)

 

حدیث: (275) تجارت میں قسمیں کھانا

حضرت ابو قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ، ثُمَّ يَمْحَقُ

تجارت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو کیونکہ قسم مال فروخت کرادیتی ہے لیکن برکت مٹادیتی ہے۔

(صحیح مسلم ، حدیث: 132(1607))

 

حدیث: (276) جھوٹی قسم کھانا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ  نے فرمایا:

جھوٹی قسم سے مال بڑھ جاتا ہے لیکن برکت ختم ہوجاتی ہے۔

(صحیح بخاری ، حدیث: 2087)

 

حدیث: (277) سود حرام ہے

حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ:هُمْ سَوَاءٌ

حضور ﷺ  نے سود لینے والوں، سود دینے والوں ، اسکی دستاویز لکھنے والوں اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ سب برابر کے شریک ہیں۔

(صحیح مسلم، حدیث: 106(1598))

 

حدیث: (278) سود کا کمتر گناہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ آقاﷺ  نے فرمایا:

سود کا گناہ ستر گناہوں کے برابر ہے

أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ

جن میں کمتر گناہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے زنا کرے۔

(سنن ابن ماجہ ،حدیث:2274)

 

حدیث: (279) رشوت حرام ہے

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ:

لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالمُرْتَشِيَ

نبی اکرم نے رشوت دینے والوں اور رشوت لینے والوں پر لعنت فرمائی۔

(سنن الترمذی، حدیث:1337)

 

حدیث: (280) دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب

حضرت عمر و ابن عاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور کو فرماتے سنا:

مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الزِّنَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرِّشَا إِلَّا أخذُوا بِالرُّعْبِ

جس قوم میں بدکاری عام ہو جائے ان پر قحط سالی مسلط کردی جاتی ہے اور جس قو م میں رشوت عام ہوجائے اس پر رعب و ہیبت مسلط کردیے جاتے ہیں۔

(مشکاۃ المصابیح، حدیث: 3582)

 

حدیث: (281) ناحق زمین پر قبضہ کرنا

حضرت سعید بن زید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا:

مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ

جو شخص زمین کا کچھ حصہ بھی نا حق  لے گا اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔

(دیکھیے:صحیح بخاری ، حدیث: 3198)

 

حدیث: (282) وراثت کے مسائل سیکھو

حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:

تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَزَادَ ابْنُ مَسْعُودٍ: وَالطَّلَاقَ وَالْحَجَّ قَالَا: فَإِنَّهُ من دينكُمْ

علم میراث سیکھو، حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے یہ زیادہ کیا کہ طلاق و حج کے مسائل بھی سیکھو، ان دونوں نے فرمایا: یہ تمہارے دین سے ہیں۔

(مشکاۃ المصابیح، حدیث:3069)

 

حدیث: (283) اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار کرنا

حضرت ابو الاحوص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ:

وہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے ا اور بہت معمولی قسم کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ،

آپ نے فرمایا:

کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں ،

فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ عرض کی: مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے ہر قسم کا مال دے رکھا ہے ، اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام و کنیز بھی،

آپ نے فرمایا:

فَإِذَا آتَاكَ اللّٰهُ مَالًا، فَلْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللّٰهِ وَكَرَامَتِهِ

جب اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو پھر اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا اثر بھی تم پر ظاہر ہونا چاہیے۔

(سنن النسائی ،حدیث: 5224)

Share:
keyboard_arrow_up