حدیث: (267) حلال کمائی
حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
دیگر فرائض کے بعد حلال روزی حاصل کرنا فرض ہے۔
(شعب الایمان ،حدیث:8367)
حدیث: (268) اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رزق حاصل کرنا
حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
روح القدس نے میرے دل میں بات ڈالی کہ کوئی جان نہ مرے گی حتیٰ کہ اپنا رزق پورا کرے گی، خبردار اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرو اور رزق کی تلاش کے لیے درمیانی راہ (حلال ذریعہ) اختیار کرو اور رزق میں دیر ہونا تم کو اس پر نہ اکسائے کہ تم اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رزق طلب کرو
فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللّٰهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ
کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے پاس کی چیزیں اس کی اطاعت سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں۔
(دیکھیے: مشکاۃ المصابیح، حدیث:5300)
حدیث: (269) حرام کھانے والا دوزخ کے قریب ہے
حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ، أَوْلَى بِهِ
جو جسم حرام سے پرورش پائے وہ جنت میں نہیں جائے گا اور جو حرام سے پرورش پائے ، دوزخ اس کے بہت قریب ہے۔
(مسند احمد،حدیث:14441)
حدیث: (270) اسکی دعا قبول نہیں ہوتی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ایک آدمی طویل سفر کرتا ہے اس کے بال گرد آلود ہیں، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے:
يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟
اے رب! اے رب! اور اس کا کھانا حرام، پینا حرام ،لباس حرام اور اس کی غذا بھی حرام ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہو؟
(صحیح مسلم ، حدیث: 65(1015))
حدیث: (271) حرام مال دوزخ کی آگ ہے
حضرت عبداللّٰہ ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
یہ نا ممکن ہے کوئی بندہ حرام مال کھائے پھر اس سے خیرات کرے تو وہ قبول ہو اور یہ بھی ناممکن ہے کہ اس سے خرچ کرے تو اس کو برکت حاصل ہو
وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ
اور وہ اس حرام کو اپنی موت کے بعد کے لیے نہ چھوڑے کہ یہ اس کا آگ کا سامان ہوگا
اللّٰہ تعالیٰ بُرائی سے بُرائی نہیں مٹاتا لیکن بھلائی سے برائی مٹاتا ہے، یقیناً ناپاک، ناپاک کو نہیں مٹا سکتا۔
(دیکھیے: مسند احمد ، حدیث: 3672)
حدیث: (272) بددیانت تاجروں کا حشر
حضرت عبید بن رفاعہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا، إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللّٰهَ وَبَرَّ وَصَدَقَ
تاجروں کا حشر قیامت کے دن نافرمانوں کے ساتھ ہوگا سوائے ان تاجروں کے جنہوں نے تجارت میں تقویٰ، نیکی اور سچائی اختیار کی۔
(دیکھیے: سنن ابن ماجہ ، حدیث: 2146)
حدیث: (273) دیانتدار تاجر کا مقام
حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاء
سچا اور دیانتدار تاجر (قیامت میں) انبیا ء و صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ۔
(سنن الترمذی، حدیث:1209)

