Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 48 of 116

 حدیث: (262) گھر والوں پر خرچ کرنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم  نے فرمایا:

دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ

جو دینار تو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے اور جو دینار غلام آزاد کرانے میں خرچ کرے اور جو دینار تو مسکین کو صدقہ دے اور جو دینار تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ان سب میں زیادہ ثواب اس کا ہے جو تو نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔

(صحیح مسلم، حدیث:39(995))

 

حدیث: (263) رضائے الٰہی کے لیے خرچ کرنا صدقہ ہے

حضرت ابو مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم نے فرمایا:

إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ

جو مسلمان اپنے گھر والوں پر ثواب کے لیے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔

(صحیح بخاری ، حدیث: 55)

 

حدیث: (264) رشتہ داروں کے لیے صدقہ کرنا

حضرت سلمان بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

الصَّدَقَةُ عَلَى المِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ

کسی عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقے (کاثواب) ہے اور وہی صدقہ اپنے رشتہ دار کو دینا دو صدقے کا ثواب ہے، ایک صدقے کا دوسرا صلہ رحمی کا۔

(دیکھیے: سنن الترمذی، حدیث: 658)

 

حدیث: (265) ہر ایک نگہبان ہے

حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا:

كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا، حاکم وقت نگرا ن ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا ، ہر شخص اپنے اہل و عیال کا نگرا ن ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا، ہر عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگرا ن ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا اور خادم اپنے آقا کے مال میں نگرا ن ہے اور اس سے اس کے متعلق سوا ل ہوگا، تم میں سے ہر ایک حاکم و نگہبان ہے اوراس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔

(دیکھیے:صحیح بخاری ، حدیث: 893)

 

حدیث: (266) حصول رزق کی نیت اور بارگاہِ الٰہی میں جواب دہی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

جو حلال رزق مال بڑھانے، فخر و تکبر کرنے اور ریاکاری کے لیے حاصل کرے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔

جو بھیک سے بچنے کے لیے رزق حلال تلاش کرے اور اپنے گھر والوں اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے کوشش کرے تو وہ قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح ہوگا ۔

(شعب الایمان ،حدیث:9889)

Share:
keyboard_arrow_up