Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 47 of 116

حدیث: (254) نظر کی حفاظت

حضرت جریر بن عبد اللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:

سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي

میں نے حضور سے (کسی نامحرم عورت پر) اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق سوال کیا تو حضور نے مجھے نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔

(صحیح مسلم، حدیث:45۔ (2159))

 

حدیث: (255) نامحرم عورتوں کے پاس جانا:

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:

إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاء

(نامحرم) عورتوں کے پاس جانے سے بچو

ایک انصاری نے عرض کیا یارسول اللّٰہ ! دیور کے بارے میں کیا حکم ہے؟

فرمایا:

دیور تو موت ہے (یعنی زیادہ خطرناک ہے)۔

(صحیح مسلم، حدیث:20۔ (2172))

 

حدیث: (256) ہر عورت بدکاری سے دور رہے

حضرت ابو موسیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالم نے فرمایا:

كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ، وَالمَرْأَةُ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا  

ہر آنکھ زانیہ ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر مردوں کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ویسی یعنی بدکار و زانیہ ہے۔

(سنن الترمذی، حدیث:2786)

 

حدیث: (257) مرد و عورت کا ایک دوسرے کی مشابہت کرنا

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ:

لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ

حضور ﷺ    نے عورتوں کی مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔

(صحیح بخاری ،حدیث: 5885)

 

حدیث: (258) مجلس کا ادب

حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم نے فرمایا:

لَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ

جب تین آدمی ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ چیز اسے غمزدہ کرے گی۔

(سنن ابی داؤد، حدیث:4851)

 

حدیث: (259) طعام میں برکت کا ذریعہ

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:كُلُوا جَمِيعًا، وَلَا تَفَرَّقُوا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم  نے فرمایا: اکٹھے ہو کر کھایا کرو الگ الگ نہ ہوا کرو، جماعت کے ساتھ برکت ہوتی ہے۔

(سنن ابن ماجہ، حدیث: 3287)

 

حدیث: (260) مصافحہ کرنا اور تحفہ دینا

حضرت عطاء خُراسانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

تَصَافَحُوا يَذْهَبِ الْغِلُّ، وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا، وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ

آپس میں مصافحہ کرو کینہ جاتا رہے گا اور آپس میں تحفے دو (تم آپس میں) محبت کرنے لگو گے اور عداوت ختم ہوجائے گی۔

(مؤطاامام مالک ،حدیث:16)

 

حدیث: (261) ہر بھلائی صدقہ ہے

حضرت ابو ذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ  نے فرمایا:

تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ المُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ البَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الحَجَرَ وَالشَّوْكَةَ وَالعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ

تیرا اپنے بھائی کے لیے مسکرا دینا صدقہ ہے، بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے اور کسی کو بھٹک جانے پر راہ دکھانا صدقہ ہے اور کسی کمزور نگاہ والے شخص کی مدد کرنا صدقہ ہے اور تیرا راستے سے پتھر، کانٹا، ہڈی ہٹا دینا تیرے لیے صدقہ ہے اور تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا بھی تیرے لیے صدقہ ہے۔

(سنن الترمذی، حدیث:1956)

Share:
keyboard_arrow_up