حدیث: (247) مومن کو اپنا گناہ چھپانا چاہیئے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شافع محشر ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
ہر امتی کے گناہ معاف کردیے جائیں گے سوائے ان کے جوا پنے گناہوں کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ کتنی بے ہودہ بات ہے۔
أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ: يَا فُلاَنُ، عَمِلْتُ البَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللّٰهِ عَنْهُ
کہ آدمی رات کو کوئی گناہ کرے اور صبح دوسروں سے کہے کہ میں نے رات فلاں فلاں کام کیے، اللّٰہ تعالیٰ نے رات بھر اس کے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا لیکن صبح اس نے خود ہی اس پردے کو کھول دیا۔
(صحیح بخاری، حدیث: 6069)
حدیث: (248) سلام کو عام کرو
حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺ سے دریافت کیا اسلام میں کونسا عمل اچھا ہے؟ فرمایا:
تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَعَلَى مَنْ لَمْ تَعْرِفْ
اللّٰہ تعالیٰ کے بندوں کو کھانا کھلاؤ اور مسلمان کو سلام کرو، خواہ جانتے ہو یا نہیں۔
(صحیح بخاری، حدیث: 6236)
حدیث: (249) سلام کرنا باعث برکت ہے
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ
اے بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کرو، یہ تمہارے لیے بھی برکت کا باعث ہوگا اور تمہارے گھر والوں کے لیے بھی ۔
(سنن الترمذی، حدیث:2698)
بد مذہبوں کو سلام نہ کرو
حدیث:(250) غیر مسلم کے سلام کا جواب
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
جب تم کو اہل کتاب سلام کرے تو کہہ دو: وعلیکم تمہارا سلام تم پر۔
(صحيح مسلم،حدیث: 6 (2163))
حدیث: (251) صرف مومن سے دوستی کرو
حضرت ابو سعید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ
صرف مومن کے ساتھ دوستی رکھو اور تمہارا کھانا صرف پرہیزگار آدمی کھائے۔
(سنن ابی داؤد، حدیث:4832)
حدیث: (252) جان، مال اور زبان سے جہاد
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ
کافروں سے جہاد کرو اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اور اپنی زبانوں سے ۔
(سنن دارمی، حدیث:2475)
حدیث: (253) راستے کا حق
حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
راستوں میں بیٹھنے سے بچو، عرض کیا گیا: یا رسول ﷺ! ہمارے لیے راستے میں بیٹھنا کسی وجہ سے ضروری ہے۔
فرمایا:
اگر بیٹھنا ضروری ہو تو راستے کا حق دو، پوچھا گیا: یارسول اللّٰہ ﷺ! راستے کا حق کیا ہے؟
فرمایا :
غَضُّ البَصَرِ، وَكَفُّ الأَذَى، وَرَدُّ السَّلاَمِ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهْيٌ عَنِ المُنْكَرِ
نظر نیچے رکھنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
(صحیح بخاری، حدیث: 2465)

