حدیث: ( 238) جنّت سے محرومی کے تین اسباب
حضرت عبد اللّٰہ ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
تین اشخاص پر اللّٰہ تعالیٰ نے جنت حرا م فرمادی:
مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْعَاقُّ، وَالدَّيُّوثُ \\\"، الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخَبَثَ
اول: شرابی پر، دوم: والدین کے نافرمان پر اور سوم: وہ بے حیا جو اپنے گھر میں بے حیائی و بے غیرتی کے کام ہونے دے۔
(مسند احمد، حدیث: 5372)
حدیث: (239) بیٹیاں اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہیں
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ
جس شخص پر بیٹیوں کی ذمہ داری ڈالی گئی اور اس نے انکے ساتھ اچھا سلوک کیا (یعنی اچھی تربیت کرکے نکاح کردیے) تو یہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کی دیوار بن جائیں گی۔
(صحیح مسلم،حدیث:147 (2629))
حدیث: (240) رشتے کاٹنے کی نحوست
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لاَ يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ
قطع رحمی کرنے والا (یعنی رشتے داروں کے ساتھ برا سلوک کرنے والا) جنت میں نہیں جائے گا۔
(صحیح بخاری،حدیث: 5984)
حدیث: (241) استاد کا حق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
علم حاصل کرو اور علم کے لیے سنجیدگی و وقار سیکھو
وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تَعْلَمُونَ مِنْهُ
اور جس سے تم علم حاصل کرو اس کے سامنے تواضع اور عاجزی اختیار کرو۔
(المعجم الاوسط، حدیث:6184)
حدیث: ( 242) پڑوسی کا حق
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ
وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پڑوس میں بھوکا رہے۔
(شعب الایمان،حدیث:3117)
حدیث: (243) دل نرم کرنے کا نسخہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺ کی خدمت میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر تم دل کی نرمی چاہتے ہو تو
فَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ، وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ
تم یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔
(دیکھیے: مسند احمد،حدیث: 7576)
حدیث: (244) بعض لوگ رحمت الٰہی کا وسیلہ ہیں
حضرت مصعب بن سعد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا:
هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ
تمہارے کمزور لوگوں کی برکت سے ہی تمہاری مدد کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتاہے۔
(دیکھیے: صحیح بخاری،حدیث: 2896)
حدیث: (245) مہمان کا حق
حضرت ابو شریح کعبی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ, فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ
جو اللّٰہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔
اس کی مہمانی ایک دن اور رات ہے اور اس کی دعوت تین دن ہے اور اس کے بعد وہ صدقہ ہے مہمان کو یہ جائز نہیں کہ اس کے پاس ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اسے تنگ کردے۔
(صحيح ابن حبان، حدیث: 5287)
حدیث: (246) مسلمان کی حاجت روائی
حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ تو خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے رسوا کرتا ہے۔
وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللّٰهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ القِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ القِيَامَةِ
اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی کرے گا اللّٰہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرے گا اور جو مسلمان سے کسی تکلیف و مصیبت کو دور کرے گا اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکالیف دور فرمائے گا اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
(صحیح بخاری، حدیث: 2442)

