اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو حج بیت اللّٰہ کرو ، اس نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا: ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے (گویا کہ جانتا ہے۔)
پھر عرض کیا : مجھے ایمان کے متعلق بتائیے؟
فرمایا کہ: تم اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخرت کے دن اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ ، عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا،
پھر عرض کیا :
مجھے احسان کے متعلق بتائیے؟
فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ ضرور یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھتا ہی ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث:1(8)
حدیث:(2) اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت و صفات
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
ارشاد باری تعالیٰ ہوا:
اے میرے بندو! میں نے اپنے آپ پر ظلم کو حرام کیا پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اے میرے بندو! تم سب راستے سے بھٹکے ہوئے ہو مگر جس کو میں ہدایت دوں پس مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جس کو میں کھلاؤں پس مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر جس کو میں پہناؤں پس مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! بے شک تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں تمام گناہ بخش دیتا ہوں پس مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم میرے نقصان تک نہیں پہنچ سکتے کہ تم مجھے نقصان دو اور ہر گز تم میرے نفع تک نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نفع دو ، اے میرے بندو! اگر تمہارا پہلا اور آخری یعنی تمام انسان اور جن تم میں سے متقی ترین شخص کے دل کے مطابق ہوجائیں تو میری بادشاہی میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے، اے میرے بندو ! اگر تمام انسان اور جن بدکار ترین شخص کے دل کے مطابق ہو جائیں تو میری بادشاہی میں کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتے۔
يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ، يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا، فَلْيَحْمَدِ اللهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ
اے میرے بندو! اگر سب انسان اور جن، زمین کے ایک حصے پر کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانے میں صرف اتنا کم ہوگا جتنا کہ سمندر میں سوئی کے ڈالنے سے کم ہوتا ہے (یعنی کچھ بھی کم نہ ہوگا) ، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا بدلہ دوں گا پس جو شخص بھلائی پائے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور جو برائی پائے وہ خود کو ہی ملامت کرے۔ (صحیح مسلم،حدیث:55 ( 2577))

