الحمد للّٰہ ضیاء الحدیث کے تین ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں مزیدکئی ایڈیشن اور آسکتے تھے لیکن پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمۃ کی خواہش تھی کہ اب اس کتاب کو باقائدہ تخریج کے ساتھ شائع کیا جائے، چنانچہ جب تک مذکورہ کام مکمل نہ ہوسکا اسے شائع نہیں کیا گیا حالانکہ کئی پبلشرز نے اسے شائع کرانے کے لیے ہم سے طلب کیا اور مارکیٹ میں بھی اس کی بے حد مانگ تھی۔
اب الحمد للّٰہ پیر و مرشِد علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ہدایت کے مطابق تخریج کا کام مکمل کرکے جدید اشاعت کی گئی ہے اور کتاب کو خوبصورت بارڈر سے مزین کیا گیا ہے۔
ضیاء الحدیث کی اشاعت تبلیغ دین بھی ہے اور صدقہ جاریہ بھی۔
اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے احباب کو تحفہ میں دیجئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احادیث رسول ﷺ کی روشنی سے دلوں میں اجالا کیا جائے۔ باری تعالیٰ اس کتاب کو نافع خلائق و توشہ آخرت اور بھٹکنے والوں کے لیےمشعل راہ بنائے ۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کے الفاظ میں دعا گو ہوں۔ آنکھ عطا کیجئے اس میں ضیاء دیجئےجلوہ قریب آگیا تم پہ کروڑوں درود محمد آصف قادری غفرلہ
باب اول:
ایمانیات اللّٰہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ ان سا نہیں انساں وہ انسان ہیں یہ قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہیں یہ ارشادات باری تعالیٰ:
ترجَمۂ کنزُالایمان:
وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو۔ وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئیں روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں (یعنی خرچ کریں) اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں۔ وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ (پ1، البقرۃ: 2تا5)
ترجَمۂ کنزُالایمان:
کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو، ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لائے اللّٰہ پر اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر۔ (پ2، البقرۃ: 177)
ترجَمۂ کنزُالایمان:
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللّٰہ یاد کیا جائے (تو) ان کے دل ڈرجائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں (تو) ان کا ایمان ترقی پائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔ (پ9، الانفال: 2)
حدیث:(1) اسلام، ایمان اور احسان
حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
ایک روز ہم رسول اللّٰہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص آیا جس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت سیاہ تھے، اس پر سفر کے شآثار بھی ظاہر نہ تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا، وہ آقا ﷺ کے بالکل قریب بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر رکھ کر عرض گزار ہوا:
یارسول اللّٰہ ﷺ مجھے اسلام کے متعلق بتائیے؟
آپ نے فرمایا:
الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ، وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ

