Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 3 of 116

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ میں  نے عرض کی:

یارسول اللّٰہ آپ بیت الخلاء تشریف لے جاتے ہیں ، جب آپ کے بعد میں وہاں جاتی ہوں تو مجھے کچھ نظر نہیں آتا مگر کستوری جیسی خوشبو آتی ہے،

فرمایا:

ہم انبیاء کے اجسام جنتی روحوں کی صفت پر پیدا کیے جاتے ہیں (اسی لیے ہمارا بول و براز اور پسینہ لطیف و پاکیزہ اور خوشبو دار ہوتا ہے) اور ان سے جو کچھ نکلتا ہے اسے زمین نگل لیتی ہے۔ (مواہب اللدنیہ، 2/91)

 

حضرت ام ایمن رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،

ایک رات حضور نے ایک برتن میں پیشاب کیا، جب میں اٹھی تو پانی سمجھ کر پی گئی ۔ صبح نبی کریم کے پوچھنے پر جب میں نے عرض کی کہ وہ تو میں پی گئی توحضور نے فرمایا: آج سے تجھے پیٹ کا کوئی مرض نہیں ہوگا۔ (مستدرک،حدیث:6912)

بیشک حضور بے مثل بشر ہیں۔

آپ ہی کا فرمان عالیشان ہے:

إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ

میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ (ترمذی، حدیث: 2312)

 

فَوَاللّٰهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلاَ رُكُوعُكُمْ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي

خدا کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا خشوع پوشیدہ ہے نہ تمہارا رکوع پوشیدہ ہے اور بیشک میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ (صحيح بخاری، حدیث: 418)

 

مذکورہ بالا آیات و احادیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہم دلائل جان کر ہی اپنے عقائد کو محفوظ اور مضبوط کرسکتے ہیں اور دینی عقائد و فقہی مسائل جاننے کے لیے علمائے اہلسنّت کی کتب کا مطالعہ ضروری ہے۔

الحمد للّٰہ یہ احادیث مبارکہ، پیر طریقت، مفکر اسلام، زینت العلماء، حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمۃ  نے ارشاد فرمائیں۔

اور یہ ناکارۂ خلائق حسبِ ارشاد انہیں مرتب کرنے کی سعادت سے فیضیاب ہوا، اگر کوئی سہو و غلطی نظر آئے تو فقیر کے لیے تجویز اصلاح اور دعائے خیر فرمائیں۔

 

اس مجموعہ احادیث کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔

باب اول:

ایمانیات : اس باب میں 99 احادیث مبارکہ شامل ہیں جن سے براہ راست یا بالواسطہ اسلامی عقائد کا علم حاصل ہوتا ہے۔

 

باب دوم:

عبادات: اس باب میں 101 احادیث مبارکہ بیان کی گئی ہیں جن میں فرائض و واجبات کے علاوہ سنن و مستحبات بھی مذکور ہیں۔

 

باب سوم:

معاملات: اس باب میں 100 احادیث مبارکہ شامل ہیں جن میں ہر مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی معاشرتی ذمہ داریوں کا بیان ہے۔

 

باب چہارم:

مہلکات: اس باب میں 25 ہلاک کرنے والی برائیوں کے بارے میں 100 احادیث شامل کی گئی ہیں۔

 

باب پنجم:

منجیات : اس باب میں 27 نجات دینے والی نیکیوں کے متعلق 115 احادیث مذکور ہیں جنہیں اپنانے سے دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

 

باب ششم:

جامع احادیث: اس باب میں 85 احادیث شامل ہیں جن میں دین اسلام کے مختلف پہلوؤں پر جامع تعلیمات کا بیان ہے۔ اس باب کی آخری 25 احادیث کریمہ نبی کریم کی ایمان افروز اور روح پرور دعاؤں کا گلدستہ ہیں۔

اس مجموعہ احادیث کی چند خاص باتیں مندرجہ ذیل ہیں:

لفظی ترجمہ کی بجائے با محاورہ اور عام فہم ترجمہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے ابواب اور احادیث کے عنوانات فہرست میں دیے گئے ہیں تاکہ قاری کو مطلوبہ حدیث تک پہنچنے میں آسانی رہے۔

اسکول ، کالج اور دینی مدارس کے طلباء کے علاوہ ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے احباب اس سے بھر پور استفادہ کرسکتے ہیں۔

عوام کے ساتھ ساتھ ائمہ و خطباء حضرات کے لیے بھی یہ کتاب نہایت کارآمد ہے کہ وہ اپنے درس و وعظ کے لیے کم وقت میں بہتر تیاری کرسکتے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up