انبیاء کرام تمام مخلوق سے افضل ہیں،
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی‘‘ (الانعام:86)
جو شخص کسی غیر نبی کو کسی نبی کے برابر یا افضل بتائے وہ کافر ہے۔ انبیاء کرام کو اپنی مثل بشر سمجھنا گمراہی ہے۔ قرآن نے کافروں کا طریقہ بیان کیا ہے کہ وہ نبیوں کو اپنی مثل بشر کہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نفوس قدسیہ بشری شکل و صورت ہی میں دنیا میں جلوہ گر ہوتے ہیں مگر ان کے جسمانی و روحانی اوصاف درجہ کمال پر ہوتے ہیں اور ان کی سماعت و بصارت اور طاقت و قدرت عام انسانوں جیسی نہیں ہوتی۔
قرآن عظیم سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کی قمیص لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو میلوں دور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسکی خوشبو سونگھ لی۔ (یوسف: 94)
حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین میل دور سے چیونٹی کی بات سن لی، جب آپ اپنے لشکر کے ساتھ ایک وادی پر گزرے جہاں ایک چیونٹی نے کہا : اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ کہیں تمہیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں کچل نہ ڈالیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام اس کی بات سن کر مسکرادیے۔
(النمل:18، 19)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرش سے عرش تک ساری کائنات دیکھ لی۔ (الانعام:75)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:
میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرندہ ہوجاتی ہے اللّٰہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اور میں مردے زندہ کرتا ہوں اللّٰہ کے حکم سے اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرکے رکھتے ہو۔ (آل عمران:49)
اب مقام مصطفی ﷺ قرآن سے پوچھیے وہ بتاتا ہے”
یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی، کچھ ان میں وہ ہیں جن سے اللّٰہ نے کلام کیا اور ان میں بعض کو درجوں بلند فرمایا“ (البقرۃ:253)
مفسرین کا اتفاق ہے کہ:
اس بعض سے سید المرسلین ﷺ مراد ہیں کہ انہیں سب انبیاء پر رفعت و عظمت بخشی۔
چنانچہ ارشاد ہوا:
”اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے۔ (البقرۃ:89)
یعنی یہود اپنی حاجات کے لیے حضور ﷺ کے وسیلے سے دعا کرتے اور کامیاب ہوتے تھے۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
”اور ہم نے آپ کا ذکر آپ کے لیے بلند کردیا“۔ (الانشرح:4)
اور فرمایا:
”اے غیب بتانے والے بیشک ہم نے آپ کو بھیجا حاضر و ناظر۔ (الاحزاب:45)
اور فرمایا:
”وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں (بولتے) مگر جو انہیں وحی کی جاتی ہے“ (النجم: 3، 4)
اب عظمت انبیاء و سید الانبیاء علیہم السلام احادیث کریمہ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔
انبیاء کرام کا نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا،
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک بار عرض کی:
یارسول اللّٰہ ﷺ! آپ وتر پڑھے بغیر سو جاتے ہیں اور پھر بغیر وضو کئے اٹھ کر وتر ادا فرماتے ہیں؟
فرمایا:
تَنَامُ عَيْنِي وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي
اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل بیدار رہتا ہے۔ (صحيح بخاری، حدیث: 3569)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ انبیاء کا وضو نواقض حکمیہ یعنی خواب و غشی سے نہیں جا تا مگر نواقض حقیقیہ یعنی پیشاب وغیرہ سے ان کی عظمت شان کے سبب جاتا رہتا ہے۔
نبی اقدس ﷺ کے فضلات مبارک، پیشاب وغیرہ امت کے حق میں طیب و طاہر تھے جن کا کھانا پینا ہمیں حلال و باعث شفا اور باعث برکت و سعادت مگر حضور ﷺ کی عظمت شان کے سبب وہ آپ کے لیے نجاست کا حکم رکھتے تھے۔ (دیکھیے: فتاویٰ رضویہ، 1/583)

