ایمانیات، عبادات، معاملات، مہلکات اور منجیات سے متعلق 600 احادیث کریمہ کا مجموعہ ضیاء الحدیث
پیرطریقت رہبرِ شریعت مفکرِ اسلام حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ
عزمِ نَو پبلشرز
0328-2965268
{جملہ حقوق محفوظ ہیں}
کتاب……… ضیاء الحدیث
مصنف… پیرطریقت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ
مرتب ……… انجینئرحافظ محمد آصف قادری
پروف ریڈنگ……… انجینئرحافظ محمد عارف قادری
منتظمِ تحقیق………مولانا راشد علی عطاری مدنی(ڈائریکٹر ھادی ریسرچ انسٹیٹیوٹ)
باہتمام………مولانا محمد سلیم قادری رضوی
تاریخ اشاعت ……… اگست2025ء/ صفرالمظفر 1447ھ
ناشر ……… عزمِ نَو پبلشرز، پلاٹ نمبر1196/1197، سیکٹر:32/E، ناصرکالونی عقب مٹھاس سویٹس، کراچی
انتساب آفتاب طریقت، ماہتاب شریعت، منبع انوار ولایت، مخزن اسرار روحانیت، محبوب سبحانی، غوث صمدانی، قطب ربانی، شہباز لامکانی، امام العارفین، برہان الواصلین، سراج السالکین، محی الدین حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہٗ کی بارگاہ عالی مرتبت میں جو اس مقام محبوبیت پر فائز ہیں جس کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’جب میں کسی بندے سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور وہ جو بھی مجھ سے مانگے اسے عطا کرتا ہوں‘‘
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
پیش لفظ:
لک الحمد یا اللّٰہ والصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللّٰہ
نبی اس اعلیٰ و ارفع شان والے بشر کو کہتے ہیں جس پر اللّٰہ تعالیٰ نے وحی نازل کی ہو اور اس کی تائید معجزات سے فرمائی ہو۔
امام غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں ،
جس طرح ہمیں اپنی اختیاری حرکات پر قدرت ہوتی ہے اسی طرح انبیاء کرام کے معجزات ان کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ نبوت کسبی نہیں کہ کوشش سے حاصل ہوسکے یہ محض اللّٰہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے البتہ نبوت کا اعلان وہ رب تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہے۔
تمام انبیاء کرام گناہوں اور خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں انبیاء کرام کے بارے میں جن امور کا ذکر ہے ان کی حقیقت گناہ نہیں بلکہ وہ امور یا تو نسیان ہیں جیسے حضرت آدم علیہ السلام کا دانہ گندم کھا لینا اور یا وہ اجتہادی خطا ہیں جیسے حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا۔
انبیاء علیہم السلام کے حق میں بھول اور اجتہادی خطا دونوں امر جائز ہیں جبکہ نبی کریم ﷺ کے حق میں اجتہادی خطا بھی جائز نہیں کیوں کہ آپ کا مرتبہ تمام انبیاء کرام سے بلند و بالا ہے۔
آپ کے اس خاص منصب پر آیات قرآنی
وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ (۵۲)
اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو، (شوریٰ : 52)
اور
اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ(۶۷)
بیشک تم سیدھی راہ پر ہو، (الحج:67) گواہ ہیں۔

