Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 42 of 116

حدیث: (215) ثوابِ جاریہ کے تین عمل

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

جب آدمی مرجاتا ہے تو اسکے اعمال کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے مگر تین اعمال کے ثواب اسے ملتے رہتے ہیں:

مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ

اول صدقہ جاریہ، دوم وہ علم جس سے لوگوں کو نفع پہنچتا رہے، سوم وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔

(صحیح مسلم، حدیث:14( 1631))

 

حدیث: (216) جمعہ کو زیارتِ قبورِ والدین

حضرت محمد بن نعمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا:

مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهُ وَكُتِبَ بَرًّا

جو اپنے ماں باپ یا کسی ایک کی قبر پر ہر جمعہ کو زیارت کے لیے حاضر ہو، اللّٰہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اور وہ والدین کے ساتھ بھلائی کرنے والا لکھا جائے گا۔

(دیکھیے: شعب الایمان،حدیث:7522)

 

حدیث: (217) والدین کے حقوق

حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی یارسول اللّٰہ ! والدین کا اولاد پر کیا حق ہے؟

فرمایا:

هُمَا جَنَّتُكَ وَنَارُكَ

وہ دونوں تیری جنت اور دوزخ ہیں

یعنی: ان کی رضا میں جنت اور ان کی ناراضی میں دوزخ ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث:3662)

 

حدیث: (218) چار کبیرہ گناہ

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا:

یہ کام کبیرہ گناہوں میں سے ہیں:

الإِشْرَاكُ بِاللّٰهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ

اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، کسی کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی قسم کھانا۔

(صحیح بخاری،حدیث: 6871)

 

حدیث: (219) والدین کو محبت سے دیکھنا

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول معظم نے فرمایا:

مَا مِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً

جو اولاد، اپنے والدین کو ایک بار مہربانی کی نگاہ سے دیکھے ، اللّٰہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک مقبول حج لکھے گا۔

لوگوں نے عرض کی: یارسول اللّٰہ ! خواہ ہر دن میں سو بار دیکھے فرمایا: ہاں اللّٰہ تعالیٰ بہت بڑا اور پاک ہے۔

(شعب الایمان، حدیث:7472)

 

حدیث: (220) والدہ کا حق

حضرت معاویہ بن جاھمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:

یا رسول اللّٰہ ! میرا ارادہ جہاد پر جانے کا ہے، مشورہ کے لیے حاضر ہوا ہوں؟

فرمایا:

کیا تیری ماں ہے؟ عرض کی: جی ہاں،

فرمایا:

فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا

ان کی خدمت اپنے اوپر لازم کرلے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔

(سنن النسائی،حدیث:3104)

 

حدیث: (221) بھائی کا حق

حضرت سعید بن العاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

حقُّ كبيرِ الإِخوَةِ على صَغِيرِهِمْ حَقُّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ

بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسا کہ باپ کا حق بیٹے پر۔

(مشکاۃ المصابیح، حدیث:4946)

 

حدیث: (222) حقوقِ والدین (بعدِ وصال)

حضرت ابو اُسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم بارگاہِ نبوی میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کے ایک شخص نے آکر عرض کی:

یارسول اللّٰہ ! کیا میرے والدین کی وفات کے بعد ان کے کوئی حقوق باقی ہیں؟

فرمایا:

نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا

ہاں، ان کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرنا اور ان کے کیے ہوئے وعدے پورے کرنا اور ان رشتوں کو قائم رکھنا جو ان کے تعلق سے ہوں اور ان کے دوستوں کا احترام کرنا۔

(سنن ابی داؤد،حدیث:5142)

Share:
keyboard_arrow_up