Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 41 of 116

 حدیث: (209) تدفین میں جلدی کرنا

حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم کو فرماتے سنا:

جب کوئی مرجائے تو اسے روک نہ رکھو، اس کی قبر تک جلدی پہنچاؤ پھر (دفن کے بعد) اس کے سر کے پاس سورہ بقرہ کا ابتدائی اور پاؤں کی طرف آخری رکوع پڑھو۔

(دیکھیے: شعب الایمان،حدیث:8854)

 

حدیث: (210) دفن کے بعد دعا اور تلقین کے لیے ٹھہرنا

حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور میت کی تدفین سے فارغ ہو کر اسکے پاس کھڑے ہوتے اور فرماتے:

اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ

اپنے بھائی کے لیے بخشش مانگو اور اس کے لیے ثابت قدمی کا سوال کرو کیونکہ اب اس سے سوال ہوں گے۔

(سنن ابی داؤد،حدیث: 3221)

 

حدیث: (211) تدفین کے بعد میت کے لیے اُنسیت

حضرت عمرو بن عاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي ، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا، حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ، وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي

جب مجھے دفن کر چکو تو میری قبر کے پاس اتنی دیر ٹھہرو جتنی دیر میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ میں تمہاری وجہ سے مانوس رہوں اور جان لوں کہ میں نے اپنے رب کے بھیجے ہوئے فرشتوں کو کیا جواب دینا ہے۔

(دیکھیے: صحیح مسلم، حدیث: 192(121))

 

حدیث: (212) میت کا قرض جلد ادا کرنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم نے فرمایا:

نَفْسُ المُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ

مومن کی روح قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے قرض ادا کردیا جائے۔

(سنن الترمذی، حدیث: 1078)

 

حدیث: (213) میت کے لیے ایصال ثواب کرنا

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بارگاہ نبوی میں عرض کی :

یارسول اللّٰہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے لیے کونسا صدقہ افضل ہے؟

فرمایا:

پانی آپ رضی اللّٰہ عنہ نے کنواں کھدوایا اور کہا :

هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ

یہ کنواں سعد کی ماں کے لیے

یعنی اس کا ثواب انکی روح کو پہنچے(سنن ابی داؤد،حدیث:1681)

 

حدیث: (214) زندہ کے لیے ایصال ثواب

حضرت صالح بن درھم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حج کے لیے جارہے تھے کہ ہمیں ایک صاحب ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ملے اور فرمانے لگے:

تم میں سے کون ضامن بنتا ہے کہ مسجد عشّار میں میرے لیے دو یا چار رکعتیں پڑھ کر کہے کہ یہ نماز ابو ہریرہ کے لیے ہے؟

میں نے اپنے آقا و محبوب، ابو القاسم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:

إِنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ، لَا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ

اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن مسجد عشار سے ایسے شہید اٹھائے گا کہ شہدائے بدر کے ساتھ انکے سوا کوئی کھڑا نہ ہوگا۔

(دیکھیے: سنن ابی داؤد، حدیث: 4308)

Share:
keyboard_arrow_up