حدیث: (203) حکیمانہ نصیحتیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا:
يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ؟ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟
اے ابن آدم میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی ، بندہ عرض کرے گا: الٰہی میں تیری عیادت کیسے کرتا؟ تو سارے جہانوں کا رب ہے، فرمائے گا : کیا تجھے علم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تو نے اس کی عیادت نہ کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔
اے انسان! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا، عرض کرے گا الٰہی میں تجھے کیسے کھلاتا؟ تو سارے جہانوں کا رب ہے، فرمائے گا: کیا تجھے علم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا اور تو نے اسے نہ کھلایا ، اگر تو اسے کھلاتا تو آج میرے پاس پاتا۔
اے انسان میں نے تجھ سے پانی مانگا اور تو نے مجھے نہ پلایا، عرض کرے گا: الٰہی میں تجھے کیسے پلاتا؟ تو سارے جہانوں کا رب ہے، فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا اور تو نے اسے نہ پلایا اگر تو اسے پلاتا تو آج میرے پاس پاتا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 43(2569))
حدیث: (204) عیادت کا طریقہ
حضرت ابو سعید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الْأَجَلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَهُوَ يُطَيِّبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ
جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو درازی عمر کی باتیں کر کے اس کا غم دور کرو اگر چہ ایسا کرنا تقدیر کو رد نہیں کرے گا لیکن اس کا دل خوش ہوجائے گا۔
(سنن ابن ماجہ، حدیث:1438)
حدیث: (205) بیماری کو برا نہ کہو
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کے پاس بخار کا ذکر ہوا تو ایک شخص نے اسے برا کہا، آپ نے فرمایا:
لَا تَسُبَّهَا، فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ، خَبَثَ الْحَدِيدِ
اسے برا نہ کہو ، یہ تو گناہوں کو ایسے دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔
(سنن ابن ماجہ،حدیث: 3469)
حدیث: (206) بوقت نزع و بعد دفن تلقین کرنا
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:
لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
اپنے مردوں کو لا الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ (ﷺ ) کی تلقین کرو (ان کے قریب کلمہ پڑھو)۔
(صحیح مسلم، حدیث: 1(916))
حدیث: (207) سورہ یٰس مشکلات آسان کرتی ہے
حضرت معقل بن یسار رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا:
اقْرَءُوا يس عَلَى مَوْتَاكُمْ
اپنے مرنے والوں پر سورہ یٓس پڑھا کرو۔
( سنن ابی داؤد،حدیث: 3121)
حدیث: (208) اپنے پیاروں کا غم
حضرت اسامہ بن زید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ:
نبی اکرم ﷺ کے نواسے، آپ کی شہزادی حضرت زینب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے بچے کی میت آپ کی طرف لے جائے گئی، آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، حضرت سعد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یارسول اللّٰہ ﷺ یہ کیا ہے؟
فرمایا:
هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللّٰهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، وَلاَ يَرْحَمُ اللّٰهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الرُّحَمَاءَ
یہ رحم ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے، اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے رحم دل لوگوں پر رحم فرماتا ہے۔
(دیکھیے: صحیح بخاری، حدیث: 5655)

