حدیث: (200) مسجد نبوی میں چالیس نمازیں
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ، كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ، وَنَجَاةً مِنَ الْعَذَابِ
جس نے میری مسجد میں چالیس نمازیں پڑھیں اور کوئی نماز قضا نہ ہوئی اس کے لیے دوزخ، نفاق اور ہر عذاب سے نجات لکھ دی جائے گی۔
(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث: 5444)
باب سوم:
معاملات ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارا تیرا
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
ارشادات باری تعالیٰ ترجمہ کنزالایمان:
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہوں اف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا یعنی تواضع اور محبت کا برتاؤ کر نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا ان دونوں نے مجھے چھٹپن چھوٹی عمر میں پالا، تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اگر تم لائق ہوئے تو بے شک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے، اور رشتے داروں کو ان کا حق دے اور مسکین کو اور مسافر کو اور فضول نہ اڑا یعنی نا جائز خرچ نہ کر)۔
(پ 15، بنیٓ اسرآءیل:23 تا26)
ترجمہ کنزالایمان:
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس راہ سے جو سب سے بھلی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہونا ہے۔
اور ما پو تو پورا ماپو اور برابر ترازو سے تولو، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا۔
(پ 15، بنیٓ اسرآءیل: 34، 35)
حدیث: (201) دین خیر خواہی ہے
حضرت تمیم داری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
الدِّينُ النَّصِيحَةُ قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ
دین خیر خواہی ہے ،ہم نے عرض کی کس کے لیے ؟ فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ کے لیے اور اس کی کتاب کے لیے اور اس کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کے ائمہ کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے۔
(صحیح مسلم، حدیث: 95(55))
حدیث: (202) مسلمان پر مسلمان کے چھ حقوق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ
مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں
عرض کی گئی یارسول اللّٰہﷺ وہ کیا ہیں؟
فرمایا:
إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللهَ فَسَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ
جب اس سے ملو تو سلام کرو، جب دعوت دے تو قبول کرو، جب تم سے خیر خواہی چاہے تو کرو ،جب چھینکے اور الحمد للّٰہ کہے تو جواب دو، جب بیمار ہو تو عیادت کرو، جب اس کا انتقال ہو تو جنازے میں جاؤ۔
(صحیح مسلم، حدیث: 5(2162))

