حدیث: (172) تعلیم قرآن
حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔
(صحیح بخاری، حدیث: 5027)
حدیث: (173) قرآن کا کچھ حصہ ضرور یاد رکھو
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ القُرْآنِ كَالبَيْتِ الخَرِبِ
جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔
(سنن الترمذی، حدیث: 2913)
حدیث: (174) دلوں کے زنگ کا علاج
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے جیسے پانی سے لوہے کو زنگ لگتا ہے، عرض کیا گیا: ان کی صفائی کیسے ہوگی؟
فرمایا:
كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ
موت کو زیادہ یاد کرنے سے اور تلاوت کرنے سے۔
(شعب الایمان،حدیث:1859)
حدیث: (175) قرآنی سورتوں کا دم کرنا
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ سرور عالم ﷺ ہر رات کو جب بستر پر تشریف لے جاتے تو ہتھلیوں کو ملاتے
ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ
پھر سورہ اخلاص، سورہ فلق، سورہ ناس پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور پھر جسم کے جس حصے تک ہوسکتا اپنے ہاتھ پھیرتے اپنے سر مبارک اور چہرے کے سامنے سے شروع فرماتے اور ایسا تین بار کرتے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 5017)
حدیث: (176) نظر بد کا تعویذ سے علاج
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے
أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى مِنَ العَيْنِ
حکم دیا کہ نظر بد سے بچنے کے لیے تعویذ کرائیں۔
(صحیح بخاری، حدیث: 5738)
حدیث: (177) دعا مانگنے کی اہمیت
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
جب کوئی مسلمان دعا کرتا ہے جس میں نہ کوئی گناہ کی بات ہوتی ہے اور نہ قطع رحمی تو اللّٰہ تعالیٰ ایسی دعا مانگنے والے کو تین میں سے ایک خصلت ضرور عطا فرماتا ہے :
إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا \\\" قَالُوا: إِذًا نُكْثِرُ، قَالَ: \\\" اللهُ أَكْثَرُ
یا تو دنیا ہی میں اس کی دعا پوری کرتا ہے یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کردیتا ہے یا اس پر آنے والی کوئی اور مصیبت دور کردیتا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: پھر تو ہم بہت زیادہ دعائیں مانگیں گے، فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ بھی بہت زیادہ دینے والا ہے۔
(مسند احمد، حدیث: 11133)
حدیث: (178) دعا نہ مانگنا بُرا ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللّٰهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ
جو اللّٰہ تعالیٰ سے نہ مانگے تو اللّٰہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔
(سنن الترمذی، حدیث: 3373)
حدیث: (179) پانچ مقبول دعائیں
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
خَمْسُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ
پانچ دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں:
مظلوم کی دعا یہاں تک کہ وہ بدلہ لے لے، حاجی کی دعا حتیٰ کہ واپس آجائے، غازی کی دعا یہاں تک کہ جنگ بند ہوجائے، بیمار کی دعا حتیٰ کہ تندرست ہوجائے اور مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے لیے دعا پھر فرمایا: ان سب میں مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔
(مشکاۃ المصابیح، حدیث:2260)

