حدیث: (162) نیکی میں جلدی کرنی چاہیئے
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ اور صحابہ کرام بدر میں مشرکوں سے پہلے پہنچ گئے اور پھر مشرک بھی آگئے تو حضورﷺ نے فرمایا:
قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ
اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے
تو عمیربن حمام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بولے: واہ واہ!
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تجھے واہ واہ کہنے پر کون سی چیز ابھار رہی ہے؟ عرض کیا : یارسول اللّٰہ ﷺ! اور کوئی چیز نہیں سوائے اس امید کے کہ میں بھی اہل جنت میں سے ہوجاؤں،
فرمایا : تم اہل جنت میں سے ہو۔
راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانا شروع کردیا پھر فرمایا کہ اگر ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہوں تو یہ زندگی بہت طویل ہے (یعنی اتنی دیر جینا بھی بوجھ معلوم ہورہا ہے) چنانچہ تمام کھجوریں پھینک دیں ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ اور کافروں سے لڑنا اور انہیں قتل کرنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ (دیکھیے: صحیح مسلم ،حدیث: 145(1901))
حدیث: (163) اخلاص نیت کا خاص انعام
حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا و مولیٰ ﷺ جب مجھے یمن بھیج رہے تھے تو میں نے نصیحت کی درخواست کی، آپ نے ارشاد فرمایا:
اپنے دین میں اخلاص پیدا کرو (یعنی جو عمل بھی کرو صرف اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرو ) تو تھوڑا عمل بھی تمہاری نجات کے لیے کافی ہوگا۔
(الترغیب والترہیب ،حدیث: 4)
حدیث: (164) اطاعت رسول ﷺ سرمایہ آخرت ہے
حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو فرمایا:
لوگو! بیٹھ جاؤ
فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ
حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن لیا (آپ اس وقت مسجد میں داخل ہو رہے تھے)
تو آپ مسجد کے دروازے پر ہی بیٹھ گئے (کہ مبادا حضورﷺ نے ان سے فرمایا ہو اور کہیں وہ نافرمانی کے مرتکب ہوجائیں) رسول اللّٰہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا:
اے عبد اللّٰہ بن مسعود آجاؤ (یعنی یہ فرمان تمہارے لیے نہیں تھا)۔ (سنن ابی داؤد، حدیث:1091)
حدیث: (165) اجتہادِ معاذ پر رسول اللّٰہ ﷺکی تحسین
حضرت حارث بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ رحمت عالم ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو ان سے فرمایا:
اے معاذ تم فیصلے کس طرح کرو گے؟ عرض کی: قرآن کے مطابق فیصلے کروں گا، فرمایا: اگر قرآن میں اس کا حکم نہ ملے تو ؟ عرض کی: رسول اللّٰہ ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا، فرمایا: اگر رسول ﷺ کی سنت میں بھی اس کا حکم نہ پاؤ تو کیا کرو گے؟ عرض کی: اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا یہ سن کر
فَضَرَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ، رَسُولِ اللّٰهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللّٰهِ
حضور ﷺ نے انکے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللّٰہ تعالیٰ کا رسول راضی ہے۔
(سنن ابی داؤد، حدیث: 3592)

