Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 32 of 116

حدیث: (155) زائر مدینہ کا انعام

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي

جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کی لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔

(شعب الایمان ، حدیث:3862)

 

حدیث: (156) مدینے میں مرنے کا اجر

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم  نے فرمایا:

مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا

جس سے ہوسکے وہ مدینہ شریف میں مرے کیونکہ میں مدینے میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔

(سنن الترمذی، حدیث: 3917)

 

حدیث: (157) عید الاضحٰی کی قربانی واجب ہے

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا:

قربانی کے ایام میں ابن آدم کا کوئی عمل اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کُھروں اور بالوں کے ساتھ آئے گا

وَإِنَّ الدَّمَ، لَيَقَعُ مِنَ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ، بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا

اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل بارگاہ الٰہی میں قبول ہوجاتا ہے لہٰذا خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو۔

(سنن ابن ماجہ ،حدیث: 3126)

 

حدیث: (158) اللّٰہ کا پسندیدہ عمل

حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا:

یارسول اللّٰہ  کونسا عمل اللّٰہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟

فرمایا:

الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا قَالَ: قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ

وقت پر نماز ادا کرنا، عرض کی: پھر کونسا عمل ؟ فرمایا: والدین سے اچھا سلوک کرنا، میں نے عرض کی: پھر کونسا ؟ عمل؟ فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔

(صحیح مسلم ، حدیث: 137(85))

 

حدیث: (159) راہ خدا میں وقت خرچ کرنا

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَوْ رَوْحَةٌ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں صبح یا شام گزار دینا، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔

(صحیح بخاری،حدیث: 2792)

 

حدیث: (160) جہاد کی آرزو کرنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ

جو شخص مرگیا اور نہ جہاد کیا اور نہ ہی جہاد کی دل میں آرزو کی تو اس کی موت نفاق کی ایک قسم پر ہوئی۔

(صحیح مسلم ،حدیث: 158(1910)

 

حدیث: (161) راہ حق میں مشکلات اور صبر

حضرت خباب بن ارت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم  نے نبی اکرم سے (کافروں) کی شکایت کی آپ اس وقت اپنی چادر مبارک کو تکیہ بنائے کعبہ شریف کے سائے میں آرام فرما تھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں فرماتے؟

آپ نے فرمایا:

كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ فِي الأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيهِ، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ، وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ، وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ

تم سے پہلے (ایمان والے) لوگوں کو پکڑا جاتا پھر گڑھا کھود کر اس میں گاڑ دیا جاتا اور پھر ایک آرا لا کر ان کے سر پر چلایا جاتا اور ان کے دو ٹکڑے کردیے جاتے (بعض پر) لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتیں جو گوشت اور ہڈیوں تک پہنچ جاتیں لیکن اس کے باوجود وہ دین سے رو گردانی نہ کرتے اللّٰہ تعالیٰ دین اسلام کی تکمیل فرمائے گا

یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک (امن و امان میں) سفر کرے گا اور اسے اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا لیکن تم جلد بازی کرتے ہو۔ (دیکھیے: صحیح بخاری ، حدیث: 3612)

Share:
keyboard_arrow_up