Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 30 of 116

 حدیث: (144) زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب

حضرت عبداللّٰہ ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم  نے فرمایا:

مَا مِنْ أَحَدٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ، إِلَّا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ حَتَّى يُطَوِّقَ عُنُقَهُ

جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دے گا، قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ اس کے مال کو گنجا سانپ بنا کر اس کے گلے میں ڈالے گا۔

(سنن ابن ماجہ ،حدیث: 1784)

 

حدیث: (145) صدقہ فطر واجب ہے

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے رمضان کے آخر میں بصرہ کے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا:

اپنے روزوں کا صدقہ ادا کرو

فَرَضَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ شَعِيرٍ، أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ

یہ صدقہ رسول اللّٰہ نے ایک صاع کھجور یا جو یا آدھا صاع گندم مقرر فرمایا ہے، ہر مسلمان پر خواہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا ۔

(دیکھیے: سنن ابی داؤد، حدیث:1622)

 

حدیث: (146) نیکی کا سچا ارادہ نیکی ہے

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول معظم نے فرمایا:

اللّٰہ تعالیٰ کے پاس نیکیاں اور برائیاں لکھی جاتی ہیں

فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ

اگر بندہ نیکی کا ارادے کرے مگر نیکی نہ کرسکے تو اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں وہ نیکی پوری لکھی جاتی ہے اور اگر وہ نیکی کرلے تو اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں اس کے عوض دس سے لیکر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اور پھر وہ برائی نہ کرے تو اس کے اعمال میں ایک پوری نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر وہ برائی کرلے تو بھی اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں اس کی ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 6491)

 

حدیث: (147) رمضان کے روزے، تراویح اور شب قدر

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

جس نے رمضان کے روزے رکھے اور جس نے رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کی (یعنی تراویح پڑھی) اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور جس نے شب قدر میں ایمان و اخلاص سے قیام کیا اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

(سنن الترمذی، حدیث: 683)

 

حدیث:( 148) ماہ رمضان کی خاص برکتیں

حضرت سلمان فارسی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

رسول معظم  نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ دیا، اے لوگو! تم پر عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے، یہ مہینہ برکت والا ہے، اس کی ایک رات ایسی ہے ہزار مہینوں سے بہتر ہے، یہ مہینہ جس کے روزے اللّٰہ تعالیٰ نے فرض کیے اور جس کی رات کے قیام کو ثواب بنایا، جو اس ماہ میں نفل عبادت ادا کرے تو گویا اس نے دوسرے مہینہ میں فرض ادا کیا اور جو اس ماہ میں ایک فرض ادا کرے تو گویا اس نے دوسرے مہینہ میں ستر فرض ادا کیے۔

وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَشَهْرٌ يُزَادُ فِي رِزْقِ الْمُؤْمِنِ

یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ غریبوں کی غم خواری کا مہینہ ہے اس ماہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ۔

جو اس ماہ میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کے گناہوں کی بخشش اور آگ سے اس کی آزادی ہوگی اور اسے روزہ دار کی مثل ثواب ہوگا اور روزہ دار کا ثواب بھی کم نہ ہوگا ،

ہم نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ ! ہم میں ہر شخص وہ نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ اسے بھی یہ ثواب دے گا جو ایک روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ یا کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے ہی افطار کرائے اور جو روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلائے اللّٰہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے وہ پانی پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ (شعب الایمان ،حدیث:3336)

Share:
keyboard_arrow_up