Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 29 of 116

حدیث: (137) فرائض و نوافل کے ذریعہ قرب الٰہی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ  نے فرمایا:

بے شک اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:

جو میرے ولی سے عداوت رکھے میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے

وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ: كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ

اور میرے کسی بندے کا فرائض کے مقابلے میں دوسری عبادتوں کے ذریعے میرے قریب ہونا مجھے پسند نہیں اور میرا بندہ (فرائض کے علاوہ) نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگے تو اس کو پناہ دیتا ہوں۔

(صحیح بخاری ،حدیث: 6502)

 

حدیث: (138) رات کے آخر میں عبادت کرنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

ہر رات جب آخری تہائی باقی رہتی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت دنیا کے آسمان کی طرف نازل ہوتی ہے اور وہ ارشاد فرماتا ہے:

مَنْ يَدْعُونِي، فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ

کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں قبول کروں، کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے عطا کروں، کون مجھ سے مغفرت چاہتا ہے کہ اسے بخشش دوں۔

(صحیح بخاری ، حدیث: 1145)

 

حدیث: (139) نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ:

كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ

میں رسول اللّٰہ کی نماز کا ختم ہونا، تکبیر کی آواز سے پہچانتا تھا۔

(صحیح بخاری ،حدیث: 842)

 

حدیث: (140) درود شریف پڑھنے کی فضیلت

حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ القِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً

قیامت میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود پڑھے گا۔

(سنن الترمذی، حدیث:484)

 

حدیث: (141) درود، دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہے

حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

دعا آسمان اور زمین کے درمیان معلق یعنی ٹھہری رہتی ہے جب تک کہ تم اپنے نبی ﷺ پر درود نہ پڑھو۔

(سنن الترمذی، حدیث:486 )

 

حدیث: (142) درود شریف غموں اور گناہوں کا علاج ہے

حضرت ابی بن کعب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

میں نے عرض کیا یارسول اللّٰہ ! میں آپ پر بہت درود اور وظائف پڑھتا ہوں تو درود کتنا مقرر کروں؟

فرمایا: جتنا چاہو، میں نے عرض کیا: چوتھائی حصہ، فرمایا: جتنا چاہو اگر درود بڑھا دو، تمہارے لیے بہتر ہے، میں نے عرض کیا : نصف فرمایا: جتنا چاہو اگر اور بڑھا دو تو زیادہ بہتر ہے،میں نے عرض کیا: دو تہائی فرمایا: جتنا چاہو اگر اور بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے ، میں نے عرض کیا: اب میں سارا وقت درود ہی پڑھوں گا،

ارشاد فرمایا:

إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ، وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ

پھر تو یہ تمہارے غموں کو کافی ہو گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا۔

(سنن الترمذی، حدیث: 2457)

 

حدیث:( 143) زکوٰۃ فرض ہے

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول معظم  نے حضرت معاذ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی طرف بھیجتے وقت فرمایا:

(تم اہل کتاب کے پاس جارہے ہو تو) انہیں اس گواہی کی طرف بلاؤ کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقیناً محمد اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ یہ بھی مان جائیں

فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللّٰهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ

تو انہیں بتانا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے فقرا کو دی جائے گی۔

(صحیح بخاری ،حدیث: 1395)

Share:
keyboard_arrow_up