حدیث: (125) نیک اور متقی کو امام بناؤ
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
اجْعَلُوا أَئِمَّتَكُمْ خِيَارَكُمْ , فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ
اپنے امام نیک و متقی لوگوں کو بناؤ کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان قاصد ہیں۔
(سنن دار قطنی ، حدیث :1903)
حدیث: (126) نماز جمعہ فرض ہے
حضرت ابن عمر، حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے وہ دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کو اس منبر پر فرماتے سنا:
لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ
لوگ جمعہ کو چھوڑنے سے باز رہیں ورنہ اللّٰہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔
(صحیح مسلم ،حدیث: 40(865))
حدیث:( 127) جمعہ عید کادن ہے
حضرت ابن سباق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مرسل روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ایک جمعہ میں فرمایا:
اے مسلمانو! یہ وہ دن ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے عید بنایا پس غسل کرو اور مسواک ضرور کیا کرو۔ (دیکھیے: سنن بیہقی للکبری ،حدیث:5961)
حدیث:( 128) گھروں میں نماز پڑھنا
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاَتِكُمْ، وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا
کچھ نمازیں (یعنی سنتیں و نوافل) اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔
(صحیح بخاری ، حدیث: 1187)
حدیث:( 129) نوافل کی اہمیت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جان کائناتﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو نجات پائے گا اور کامیاب ہوجائے گا اور اگر اس میں خرابی ہوئی تو وہ ناکام ہوگا اور نقصان اٹھائے گا، اگر اس کے فرائض میں کچھ کمی ہوئی تو اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا:
انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلَ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الفَرِيضَةِ، ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ
دیکھو کیا میرے بندے کی نفلی عبادت بھی ہے؟ پس اس کے ساتھ فرائض کی تکمیل کی جائے گی پھر باقی تمام اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔
(سنن الترمذی، حدیث:413 )
حدیث: (130) سلام، اطعام اور نماز تہجد
حضرت عبد اللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُونَ الجَنَّةَ بِسَلَامٍ
اے لوگو! سلام پھیلاؤ اور کھانا کھلاؤ اور رات کو نماز (تہجد) پڑھو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں، تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔
(سنن الترمذی، حدیث:2485 )
حدیث: (131) تحیۃ الوضو کی فضیلت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ نے فجر کے وقت حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:
اے بلال اپنے اسلام لانے کے بعد کا کوئی امید افزا عمل بتاؤ کیونکہ میں نے جنت میں تمہارے جوتوں کی آواز اپنے آگے سنی ہے، عرض کیا:
مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي: أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا، فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
میں نے اسلام میں اس سے زیادہ پر امید عمل نہیں کیا کہ میں رات اور دن میں جس وقت بھی وضو کرتا ہوں اس سے نماز پڑھتا ہوں جتنا پڑھنا میرے مقدر میں ہے۔
(صحیح بخاری ،حدیث: 1149)

