Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 24 of 116

حدیث:( 105) علم دین سیکھنے والا راہ خدا میں ہے

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا:

جو علم دین سیکھنے نکلا وہ واپسی تک اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں ہے۔ (مشکاۃ المصابیح، حدیث:220 )

 

حدیث:( 106) چالیس احادیث یاد کرنے کی فضیلت

حضرت ابو درداء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم سے پوچھا گیا کہ اس علم کی حد کیا ہے جسے انسان سیکھ لے تو عالم ہوجائے؟ فرمایا:

من حَفِظَ عَلَى أُمَّتِي أَرْبَعِينَ حَدِيثًا فِي أَمْرِ دِينِهَا بَعَثَهُ اللّٰهُ فَقِيهًا وَكُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَة شَافِعاً وَّشَهِيْداً

جو شخص میری امت تک پہنچانے کے لیے دینی امور کی چالیس حدیثیں یاد کرے گا اللّٰہ تعالیٰ اسے قیامت میں عالم کی حیثیت سے اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں اس کا شفیع و گواہ ہوں گا۔ (مشکاۃ المصابیح، حدیث:258 )

 

حدیث:( 107) انصاری صحابہ پر عطائے الٰہی

حضرت ابو ایوب و حضرت جابر و حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ:

جب آیت نازل ہوئی کہ ”اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاکی پسند کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ ستھروں کو پسند فرماتا ہے“ (التوبہ: 108)

تو نبی کریم ﷺ  نے فرمایا:

اے انصار! اللّٰہ تعالیٰ نے تمہاری پاکی کی بہت تعریف کی ہے، تمہاری پاکی کیسی ہے؟ انہوں نے عرض کیا:

نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ قَالَ: فَهُوَ ذَاكَ، فَعَلَيْكُمُوهُ

ہم نماز کے لیے وضو اور جنابت کے لیے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں، فرمایا: یہی وہ پاکی ہے، اسے لازم کرلو۔

(سنن ابن ماجہ ، حدیث: 355)

 

حدیث:( 108) مسواک کی فضیلت

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نور مجسم   نے فرمایا:

تَفْضُلُ الصَّلَاةِ بِالسِّوَاكِ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ السِّوَاكِ سَبْعِينَ ضِعْفًا

مسواک کرکے نماز پڑھنا بغیر مسواک کیے نماز پڑھنے سے ستر (70)درجہ افضل ہے۔

(شعب الایمان،حدیث:2518)

 

حدیث:( 109) کامل وضو ، گناہوں کا کفارہ

حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم  نے فرمایا:

مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ

جو وضو کرے تو اچھا وضو کرے ، اس طرح اس کے صغیرہ گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔

(صحیح مسلم ،حدیث: 33(245))

 

حدیث: (110) تیمم کی شرائط

حضرت ابو ذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت اللعالمین نے فرمایا:

إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورُ المُسْلِمِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ المَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدَ المَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ

پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کا سامان ہے (یعنی بوقت ضرورت اس سے تیمم کرے) اگر چہ دس سال تک پانی نہ ملے مگر جب پانی مل جائے تو چاہیے کہ اسے (وضو یا غسل کے لیے) بدن پر ڈالے کہ یہ اس کے لیے بہتر ہے۔

(سنن الترمذی ، حدیث: 124)

 

حدیث:( 111) انبیاء علیہم السلام  کی سنتیں

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم نے فرمایا:

دس کام فطرت سے ہیں:

قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ

مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیاں دھونا، بغل کے بال صاف کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا اور استنجا کرنا۔

 

راوی کہتے ہیں کہ:میں دسویں بات بھول گیا شاید وہ کلی کرنا ہے۔(صحیح مسلم، حدیث: 56(261))

Share:
keyboard_arrow_up