حدیث: (98) خارجی بدترین مخلوق ہیں
كَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَرَاهُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللّٰهِ
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما خارجیوں کو بدترین مخلوق سمجھتے تھے۔
آپ نے فرمایا کہ خارجیوں نے ان آیات کو جو کافروں کے بارے میں نازل ہوئیں تھیں، مسلمانوں پر چسپاں کردیا۔
(صحیح بخاری، باب قتل الخوراج والملحدین۔۔۔)
حدیث: (99) برائی کے خلاف جہاد کرنا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نور مجسم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
تم میں سے جو برائی ہوتی دیکھے اسے چاہیے کہ اس کو ہاتھ کی طاقت سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا نہایت کمزور درجہ ہے۔ (صحیح مسلم ، حدیث: 78(49))
باب دوم:
عبادات وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰس وہی طحہ ارشادات باری تعالیٰ
ترجمہ کنزالایمان:
” اور اللّٰہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے، رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھڑانے میں (غلام آزاد کرانے میں ) اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔“ (پ 2 ، البقرۃ: 177)
ترجمہ کنزالایمان:
” اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔“ (پ 2، البقرۃ: 183)
ترجمہ کنزالایمان:
”اور اللّٰہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا (فرض) ہے جو اس تک چل سکے (یعنی استطاعت رکھتا ہو)“ (پ 4، اٰل عمرٰن: 97)
”ترجمہ کنزالایمان:
اے لوگو! اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا، یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیز گاری ملے۔“ (پ 1، البقرۃ: 21)
حدیث:( 100) اخلاص نیت
حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى
اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے، ہر شخص کے لیے وہی ہے جو نیت کرے۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 1)
حدیث:( 101) عبادات میں اخلاص ضروری ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ: جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ
قیامت میں پہلے شہید کا فیصلہ ہوگا اسے لایا جائے گا اللّٰہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرا کے فرمائے گا: تو نے میرے لیے کیا عمل کیا؟ عرض کرے گا: تیری راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگیا، رب فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، تو نے اس لیے لڑائی کی تھی کہ تجھے بہادر کہا جائے، وہ کہہ لیا گیا، پھر حکم ہو گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
پھر وہ جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا اپنی نعمتوں کا اقرار کرا کے اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے میرے لیے کیا عمل کیا؟
عرض کرے گا: علم سیکھا، سکھایا، تیری راہ میں قرآن پڑھا، فرمائے گا: تو جھوٹا ہے تو نے اس لیے علم سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے اس لیے قرآن پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے وہ کہہ لیا گیا، پھر حکم ہو گا، تو وہ اوندھے منہ گھسیٹ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
پھر وہ جسے اللّٰہ تعالیٰ نے وسعت دی اور خوب مال عطا کیا، لایا جائے گا، اپنی نعمتوں کا اقرار کرانے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے میرے لیے کیا کیا؟
عرض کرے گا: میں نے ان تمام جگہوں میں تیرے لیے خرچ کیا جہاں خرچ کرنا تجھے پیارا ہے،فرمائے گا: تو نے یہ سخاوت اس لیے کی تھی کہ تجھے سخی کہا جائے وہ کہہ لیا گیا ، پھر حکم ہوگا تو اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔(دیکھیے: صحیح مسلم ،حدیث: 152(1905))

