Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 20 of 116

حدیث: (83) حضور آخری نبی ہیں

حضرت ثوبان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم نے فرمایا:

وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

(دیکھیے: سنن الترمذی ، حدیث: 2219)

 

حدیث: (84) انبیاء، علماء اور شہداء کی شفاعت

حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ  نے فرمایا:

يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْعُلَمَاءُ، ثُمَّ الشُّهَدَاءُ

قیامت کے دن تین طرح کے لوگ (خاص طور پر) شفاعت کریں گے: انبیاء علیہم السلام، پھر علماء اور پھر شہداء ۔

(سنن ابن ماجہ ،حدیث: 4213)

 

حدیث: (85) جنتی فرقہ کونسا ہے؟

حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقانے فرمایا:

میری امت پر ویسے ہی حالات آئیں گے جیسے بنی اسرائیل پر آئے ، جیسے جوتی کی جوتی سے برابری ہوتی ہے ، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے زنا کیا تو میری امت میں بھی ایسا ہوگا، یقیناً بنی اسرائیل 72فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی ، سوائے ایک گروہ کے سب دوزخی ہوں گے ۔

صحابہ نے عرض کی: یارسول اللّٰہ وہ ایک فرقہ کونسا ہے؟

فرمایا:

مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي  

وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (سنن الترمذی ، حدیث: 2641)

 

حدیث: (86) سواد اعظم کی پیروی ضروری ہے

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہنے فرمایا:

اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ، فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ  

بڑے گروہ کی پیروی کرو کیونکہ جو الگ رہا وہ الگ ہی آگ میں جائے گا۔ (دیکھیے: مستدرک حاکم، حدیث: 390)

 

حدیث: (87) سواد اعظم اہلسنّت و جماعت

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:

یقیناً اللّٰہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر متفق نہ ہونے دے گا

وَيَدُ اللّٰهِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَمَنْ شَذَّ شَذَّ إِلَى النَّارِ

اور جماعت پر اللّٰہ تعالیٰ کا دست کرم ہے، جو جماعت سے الگ رہا ہے وہ الگ ہی دوزخ میں جائے گا۔

(دیکھیے: سنن الترمذی ، حدیث: 2167)

 

حدیث: (88) اہلسنّت و جماعت کے ساتھ رہو

حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا:

شیطان انسان کے لیے بھیڑیا ہے، جیسے بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی بکری کا شکار کرتا ہے (ایسے ہی شیطان انسان کا شکار کرتا ہے) لہٰذا تم گھاٹیوں (شیطانی راستوں) سے بچو ۔

وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ

اور تم پر (اہلسنّت کی)جماعت اور عام مسلمانوں کا ساتھ لازم ہے ۔ (دیکھیے: مسند احمد، حدیث: 22029)

 

حدیث: (89) گستاخ و بے ادب امام نہ بنایا جائے

حضرت سائب بن خلاد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

ایک شخص نے قوم کو نماز پڑھائی اور قبلے کی طرف تھوک دیا، نبی کریم دیکھ رہے تھے ، آپ نے اس کی قوم سے فرمایا: یہ آئندہ تمہیں نماز نہ پڑھائے، اس کے بعد جب اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے روک دیا اور حضور کے فرمان سے اسے آگاہ کیا، اس نے یہ واقعہ حضور کی خدمت میں عرض کیا، تو آپ نے فرمایا:

نَعَمْ، إِنَّكَ آذَيْتَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ

ہاں میں نے منع کیا ہے کیونکہ تو نے (قبلہ کی سمت تھوک کر) اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذا دی۔ (سنن ابی داؤد،حدیث: 481)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:

کیونکہ تیرا یہ کام میری ایذا کا سبب ہے اور میری ایذاء رب کی ایذا کا باعث۔ اس کا یہی مطلب ہے کیونکہ اس نے حضور کو دکھ دینے کے واسطے یہ کام نہ کیا تھا،ورنہ یہ عمل کفر اور ارتداد ہوتا اور اسے دوبارہ مسلمان کیا جاتا۔ ظاہر یہ ہے کہ اس شخص نے توبہ کرلی ہوگی اور دوبارہ امام بنا دیا گیا ہوگا۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/459)

Share:
keyboard_arrow_up