Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 19 of 116

حدیث: (78) نسبت رسول کا مشکل کشا ہونا

حضرت ابن منکدر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

رسول اللّٰہ کے غلام حضرت سفینہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ارض روم میں لشکر سے بھٹک گئے یا قید کرلیے گئے، آپ بھاگتے ہوئے لشکر اسلام کی تلاش میں چلے کہ شیر سامنے آگیا، آپ بولے، اے شیر! میں رسول اللّٰہ کا غلام ہوں، میرے ساتھ ایسا ایسا واقعہ ہوا ہے تو شیر دم ہلاتا ہوا ان کے قریب آگیا ، وہ جب کوئی آواز سنتا تو اُدھر چلا جاتا پھر آپ کے برابر چلنے لگتا یہاں تک کہ آپ لشکر تک پہنچ گئے پھر شیر واپس چلا گیا۔ (مشکاۃ المصابیح، حدیث:5949)

 

حدیث: (79) صحابہ کرام کا مشکل وقت میں و سیلہ اختیار کرنا

حضرت ابو الجوزاء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:اہل مدینہ سخت قحط میں مبتلا ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں فریاد کی، انہوں نے فرمایا:

نبی کی طرف نظر کرو اور ایک طاق آسمان کی طرف بنادو تاکہ قبر انور اور آسمان کے درمیان آڑ نہ رہے ، جب لوگوں نے ایسا کیا توخوب بارش ہوئی اور سبزہ اُگ گیا اور اونٹ فربہ ہوگئے۔ (مشکاۃ المصابیح، حدیث: 5950)

 

حدیث: (80) حضور شفا عطا فرماتے ہیں

حضرت یزید بن ابو عبید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

میں نے سلمہ ابن اکوع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی پنڈلی میں زخم کا نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ نشان کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ اس زخم کا نشان ہے جو خیبر میں مجھے لگا تو لوگوں نے کہا: سلمہ شہید ہوگئے تو جب میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا

فَنَفَثَ فِيهِ ثَلاَثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ

تو حضور نے تین بار دم فرمایا بس اس وقت سے پھر مجھے کبھی تکلیف نہ ہوئی۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 4206)

 

حدیث: (81) ستونِ حنانہ کا عشقِ مصطفےٰ

حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

نبی کریم جب خطبہ دیتے تو کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا لیتے جو کہ مسجد نبوی کا ایک ستون تھا جب حضور کے لیے منبر تیار کیا گیا اور آپ اس پر جلوہ افروز ہوئے،

فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا، حَتَّى كَادَتْ تَنْشَقُّ

تو وہ کھجور کا تنا چیخ و پکار کرنے اور رونے لگا یہاں تک کہ ہمیں ڈر ہوا کہ یہ پھٹ جائے گا۔

نبی کریم نے منبر سے اتر کر اسے اپنے سینے سے لگایا اور تھپکی دی (جیسے روتے ہوئے بچہ کو تسلی دی جاتی ہے) تو وہ سسکیاں بھرنے لگا اور پرسکون ہوگیا۔ (دیکھیے: صحیح بخاری ، حدیث: 2095)

 

حدیث: (82) انبیاء علیہم السلام بعد وصال بھی زندہ ہیں

حضرت ابو درداء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم، نور مجسم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللّٰهِ حَيٌّ يُرْزَقُ

بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام  کے اجسام کا کھانا زمین پر حرام فرما دیا تو خدا کے نبی زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث: 1337)

Share:
keyboard_arrow_up