Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 18 of 116

 حدیث: (72) حضور نعمتیں تقسیم فرماتے ہیں

حضرت معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم نے فرمایا:

مَنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰهُ يُعْطِي

اللّٰہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ عطا فرمانے والا ہے۔
(صحیح بخاری ، حدیث: 71)

 

حدیث: (73) حضور کی ہر بات پوری ہوتی ہے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم کی بارگاہ میں بائیں ہاتھ سے کھایا،

آپ نے فرمایا :

كُلْ بِيَمِينِكَ، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: لَا اسْتَطَعْتَ

تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھا، وہ تکبر کرتے ہوئے بولا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا،

آپ نے ارشاد فرمایا :

اب تو کبھی اس کی طاقت نہیں رکھے گا۔

راوی نے فرمایا کہ: پھر وہ یہ ہاتھ کبھی اپنے منہ تک نہ اٹھا سکا ۔ (صحیح مسلم ،حدیث: 107(2021)

 

حدیث:( 74 ) نبی مکرم کی برکت

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

ایک بار ایک خوفناک آواز کی وجہ سے اہل مدینہ گھبرا گئے تو نبی کریم ابو طلحہ کے سست اور اڑیل گھوڑے پر سوار ہو کر سب سے پہلے آواز کی سمت روانہ ہوئے، جب حضور واپس آئے تو فرمایا:

وَجَدْنَا فَرَسَكُمْ هَذَا بَحْرًا، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لاَ يُجَارَى

ہم نے تمہارے گھوڑے کو دریا کی طرح تیز رفتار پایا پھر اس دن کے بعد سے اس گھوڑے کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔

(صحیح بخاری ،حدیث: 2867)

 

حدیث:( 75) حضور کا دست مبارک ، دست شفا ہے

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ:

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا

رسول معظم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو مدینے کے لونڈی غلام آپ کے پاس اپنے برتن لے آتے جن میں پانی ہوتا، آپ ان میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے بعض اوقات وہ لوگ آپ کی خدمت میں بہت سردی کی صبح کو پانی لاتے ، پھر بھی آپ اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔ (صحیح مسلم ،حدیث: 74(2324))

 

حدیث: (76) صحابہ کا تبرکات نبوی کو باعث شفا و برکت جاننا

حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے پاس نبی اکرم کا جبہ مبارک تھا ،وہ فرماتی ہیں:

اس جبہ کو نبی پہنا کرتے تھے،

فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا

ہم اسے بیماروں کے لیے دھوتے ہیں اور اس کے پانی سے شفا حاصل کرتے ہیں۔

(دیکھیے : صحیح مسلم ، حدیث: 10(2069))

 

حدیث:( 77) حضور  کے وسیلے سے آنکھیں عطا ہوئیں

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:

ایک نابینا صحابی بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کی: آپ اللّٰہ تعالیٰ سے میری صحت کے لیے دعا فرمائیے،

آپ نے فرمایا: چاہو تو صبر کرو ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔اور چاہو تو دعا کروں ؟ اس نے عرض کی: آپ دعا فرمادیجئے،

ارشاد فرمایا:

تم اچھی طرح وضو کرو اور پھر (نماز پڑھ کر) یہ دعا کرو:

اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى، اللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ

اے اللّٰہ تعالیٰ میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں، تیرے نبی محمدکے وسیلے سے جو کہ نبی رحمت ہیں، یارسول اللّٰہ میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کے دربار میں اس لیے متوجہ ہوا ہوں کہ میری یہ حاجت پوری ہوجائے، یا اللّٰہ! حضور کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔

راوی کہتے ہیں کہ: جب اس نابینا صحابی نے بعد نماز یہ دعا کی تو اللّٰہ تعالیٰ نے اس کو آنکھیں عطا فرمادیں گویا کہ وہ کبھی نابینا ہی نہ تھا۔

(دیکھیے: سنن ابن ماجہ،حدیث: 1385۔: مسند احمد، حدیث: 17241۔ معجم الکبیر، حدیث:8310 )

Share:
keyboard_arrow_up