حدیث:( 68) آپ جسے چاہیں جنت عطا فرمائیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا و مولیٰ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
میری امت کا ایک گروہ جنت میں بلا حساب داخل ہوگا ان کی تعداد ستر ہزار ہوگی اور ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللّٰہ عنہ اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
يَا رَسُولَ اللّٰهِ، ادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُم
یارسول اللّٰہ ﷺ! اللّٰہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے ان میں شامل فرمالے، آپ نے دعا فرمائی: اے اللّٰہ تعالیٰ اسے ان میں شامل فرما۔
پھر ایک انصاری صحابی نے کھڑے ہو کر عرض کی: یارسول اللّٰہ ﷺ دعا فرمائیے کہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں شامل فرما لے،
آپ ﷺ نے فرمایا:
اس دعا میں عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ ( صحیح بخاری ، حدیث: 6542)
حدیث: (69) حضورﷺ ”حاجت روا“ ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بارگاہ نبوی میں عرض کیا :
یارسول اللّٰہ ﷺ میں آپ سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں مگر سب بھول جاتا ہوں،
فرمایا:
ابْسُطْ رِدَاءَكَ فَبَسَطْتُهُ، قَالَ: فَغَرَفَ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ضُمَّهُ، فَضَمَمْتُهُ، فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَهُ
اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے پھیلا دی ، آپ نے ہاتھوں سے ایک چلو بھر کر اس میں ڈالا اور فرمایا : اسے اپنے جسم سے لگا لومیں نے لگالی پھر اس کے بعد میں کبھی کسی حدیث کو نہیں بھولا۔
(صحیح بخاری ، حدیث: 119)
حدیث:(70) صحابہ کرام کا حضور ﷺ کو مشکل کشا سمجھنا
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانے میں ایک دفعہ قحط پڑا۔ جب آپ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کی:
يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللهَ لَنَا
یا رسول ﷺ جانور ہلاک ہوگئے ، بچے بھوکے ہو گئے، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ ہمیں پانی عطا کرے۔
آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیئے ۔ حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت آسمان شیشے کی طرح صاف تھا لیکن پہاڑوں کی طرح بادل آگئے حضور علیہ السّلام کے منبر سے اترنے سے پہلے ہی بارش شروع ہو گئی،
حضرت انس فرماتے ہیں:
میں نے بارش کا پانی آپ ﷺ کی داڑھی سے بہتہ ہوا دیکھا اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی پھر وہی شخص یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہو کر عرض گزار ہوا: یارسول اللّٰہ ﷺ گھر گِر گئے ہیں، آپ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ بارش روک لے، آپ نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے اور دعا کی:
اللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا
اے اللّٰہ ! ہم پر نہیں ہمارے ارد گرد برسا۔
پس ہم نے دیکھا کہ بادل مدینہ منورہ کو چھوڑ کر یوں ارد گرد ہوگئے گویا وہ تاج ہیں ۔ (دیکھیے: صحیح بخاری ، حدیث: 933)
حدیث:( 71) صحابہ کرام کا حضور ﷺ کو حاجت روا سمجھنا
حضرت جابر بن عبد اللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی حضورﷺ کے پاس ایک چمڑے کا ڈول تھا اس سے آپ نے وضو فرمایا پھر لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے اور عرض کیا:
لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلاَ نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ
ہمارے پاس پانی نہیں جس سے ہم وضو کریں اور پیئیں سوائے اس پانی کے جو آپ کے پاس ہے۔
فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الرِّكْوَةِ، فَجَعَلَ المَاءُ يَثُورُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، كَأَمْثَالِ العُيُونِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا
پس آپ نے اپنا دست مبارک اس ڈول میں رکھا تو پانی آپ کی مبارک انگلیوں سے چشموں کی طرح نکلنے لگا پس ہم نے پیا اور وضو کیا۔
حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا آپ اس وقت کتنے تھے؟ فرمایا:
لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً
اگر ہم لاکھ بھی ہوتے تو ہم کو کافی ہوتا مگر ہم پندرہ سو تھے۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 3576)

