٭زکوۃ وصول کرنے والے عاملیں کے پاس کتاب الصدقۃ کے علاوہ اور بھی تحریریں تھیں۔
(سابق حوالہ)
٭عمر بن حزم کو یمن کا حاکم بناتے وقت فرائض صدقات ، دیات، طلاق، عتاق، نماز ، مصحف شریف چھونے سے متعلق احکام پر مشتمل ایک تحریر لکھوائی تھی ۔
(دیکھیے: المستدرک علی الصحیحین،حدیث:1447۔ نزہۃ القاری، ص70)
٭مختلف فرامین واحکام جو حضورِ اقدس ﷺ نے قبائل کو بھیجے، معاہدات کی تحریریں، مثلاََ صلح حدیبیہ وغیرہ۔
(نزہۃ القاری، 1/71 )
٭ وہ نامے جو حضورِ اقدس ﷺ نے سلاطین و امراء کے پاس بھیجے، عبداللّٰہ بن عکیم صحابی کے پاس حضور اقدس ﷺ کی ایک تحریر تھی، جس میں مردہ جانوروں کے احکام مذکورتھے۔
(دیکھیے: سنن الترمذی، حدیث: 1729۔دیکھیے: سنن ابن ماجہ،حديث: 3613)
٭نما ز، روزہ ، سود، شراب وغیرہ کے مسائل وائل بن حجر کو حضورِ اقدس ﷺ نے لکھوائے تھے۔
(نزہۃ القاری، 1/71)
٭ اشیم نامی مقتول کی بیوی کو اپنے مقتول شوہر کی دیت دلانے کا فرمان حضور ﷺ نے لکھوایا تھا، جو ضحاک بن سفیان صحابی کے پاس تھا۔
(سنن الترمذی، حدیث: 1415)
٭ ترکاریوں اور سبزیوں پر زکوۃ نہیں ، یہ حکم نامہ لکھوا کر حضرتِ معاذبن جبل کے پاس یمن بھجوایا تھا۔
(نزہۃ القاری، 1/71)
٭رافع بن خدیج صحابی کے پاس ایک مکتوبِ گرامی تھا، جس میں یہ مندرج تھا، کہ مدینہ بھی مثلِ مکہ حرم ہے۔
(دیکھیے: مسند احمد ، حدیث: 17272)
٭ حضرتِ علی رضی اللّٰہ تعالی عنہ کو کچھ احکام لکھوا کر دئے تھے، جو ان کے پاس تھے ۔
(صحیح بخاری ، حديث: 111 ماخوذاً)
٭ حضرتِ معاویہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے حضرتِ مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ کو لکھا:
تم نے جو کچھ رسول اللّٰہ ﷺ سے سنا ہے ، وہ لکھ کر بھیج دو ، چنانچہ انہوں نے کچھ احادیث لکھو ا کر بھیجیں۔
(صحیح بخاری،حديث: 1477، 6330، 6473، 6615 ماخوذاً)
عہدِ صحابہ میں کتابتِ حدیث
٭حضرتِ فارقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے فرمایا:
قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ
علم لکھ کر قید کر لو۔
(مستدرک حاکم، حدیث: 514)
دارمی و مستدرک دونوں کتابوں میں حضرتِ انس رضی اللّٰہ تعالی عنہ کا یہی ارشاد منقول ہے،
اور دارمی میں حضرتِ ابن عمر کا بھی، چنانچہ ان ارشادات پر عمل ہوا ۔
٭مسلم میں ہے کہ خود حضرتِ انس نے محمود بن ربیع سے حضرت عتبان کی ایک طویل حدیث سنی، تو اپنے صاحبزادے کو حکم دیا کہ اسے لکھ لو، تو انہوں نے لکھا۔
(دیکھیے: صحیح مسلم ،حديث: 54 (33))
٭طحطاوی میں بھی مذکور ہے کہ حضرتِ انس نے اپنے لڑکے سے حدیث لکھوائی۔
(دیکھیے: شرح معانی الآثار،حدیث:7134)
٭حضرت ابو ہریرۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنی احادیث لکھوا کر یا خود لکھ کر محفوظ کر دی تھیں(چنانچہ ) حسن بن عمر و کہتے ہیں کہ حضرتِ ابوہریرہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور احادیث کی متعدد کتابیں دکھائیں اور کہا: دیکھو یہ سب میرے یہاں لکھی ہوئیں ہیں۔
(نزہۃ القاری، 1/72)
٭ بشر بن نھیک حضرت ابو ہریرہ کی کتابیں عاریۃ لے کر نقل کرتے ، نقل کے بعد ان کو سناتے اور سنانے کے بعد پوچھتے،
الَّذِي قَرَأْتُهُ عَلَيْكَ , أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ
میں نے جو آپ کو سنایا ہے ، وہ سب آپ نے رسول اللّٰہ ﷺ سے سنا ہے ، حضرتِ ابوہریرہ فرماتے: ہاں ۔
(شرح معانی الآثار، حدیث: 7137)

