٭ابان مشہور تابعی حضرت انس رضی اللّٰہ تعالی عنہ کی مجلس میں ساگوان (لکڑی) کی تختیوں پر حدیثیں لکھا کرتے تھے۔
(دیکھیے: سنن دارمی ، حدیث:509)
٭ عبداللّٰہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ ہم حضرت جابر کی خدمت میں بیٹھ کر احادیث نبوی پوچھ کر لکھ لیتے تھے۔
(دیکھیے: شرح معانی الآثار، حدیث:7133)
٭سعید بن جبیر نے فرمایا :
میں ابن عمر اور ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے جو احادیث سنتا، ان کو لکھ لیتا۔
(دیکھیے: سنن دارمی ، حدیث:512)
٭یہی سعید بن جبیر کہتے ہیں :
میں حضرتِ ابنِ عباس کی خدمت میں حاضر ہو کرحدیثیں لکھا کرتا تھے، کاغذ بھر جاتا، توکسی اور چیز پر لکھتا۔
(دیکھیے: سنن دارمی ، حدیث:518)
حضرت ابن عمر کی مرویات،
نافع نے، ام المومنین عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی احادیث عروہ بن زبیر نے، حضرت جابر کی احادیث کو قتادہ بن دعامہ نے اور حضرت ابن عباس کی مرویات کو ان کے تلمیذ كُریب نے لکھ کر محفوظ کر لیا تھا۔
(نزہۃ القاری، ص72، 73)
کیونکہ صحابہ رکرام کے صحائف میں ترتیب نہ تھی، اس لیے حضرت عمر بن عبدالعز یز کے دور میں باقاعدہ تدوین حدیث کا آغاز ہوا ۔ تفصیل کے لیے
(نزہۃ القاری ، 1/73)

