٭حضرت ابن عباس کے چند صحیفے تھے، طائف کے کچھ لوگ حضرت ابن عباس کی خدمت میں ان کے چند صحیفے لیکر حاضر ہوئے تاکہ وہ ان لوگوں کو ان میں تحریر کردہ احادیث سنادیں، اس وقت حضرت ابن عباس کی بینائی کمزور ہوچکی تھی ، وہ پڑھ نہ سکے اور فرمایا کہ تم لوگ مجھے پڑھ کر سناؤ، تمہارا سنانا اور میرا پڑھنا برابر ہے۔
(دیکھیے: شرح معانی الآثار، حدیث:7131)
ظاہر ہے کہ یہ وہی صحیفے تھے ، جو انہوں نے عہدِ نبوی میں لکھے تھے اور اگر یہ مان لیا جائے کہ وصالِ اقدس کے بعد کے لکھے ہوئے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہوگا کہ عہدِ صحابہ میں احادیث لکھی گئیں اور منکرین تو مطلقاََ عہدِ صحابہ میں بھی کتابتِ حدیث کے منکر ہیں، ( حدیث ِ ابن ِ عمر میں)نحن نکتب سے اشارہ ملتاہے کہ اس خدمت کو ایک جماعت انجام دیتی تھی اور اس کی تائید دوسری روایات سے بھی ہوتی ہے ۔
٭عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:
خدمتِ اقدس ﷺ میں کچھ صحابہ حاضر تھے، میں بھی تھا، میں سب سے کم عمر تھا،
حضور اقدس ﷺ نے فرمایا :
جو مجھ پر قصداً جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، پھر جب لوگ باہر آئے تو میں نے ان سے کہا: حضورﷺ نے جو فرمایا وہ آپ نے سنا ہے، اس کے باجود اتنی کثرت سے آپ لوگ کیسے حدیثیں بیان کرتے ہیں ؟وہ لوگ ہنسے اور کہا : اے بھتیجے ، جو کچھ ہم نے حضور سے سنا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھا ہوا ہے ۔
(مجمع الزوائد،حدیث :678)
اس کے علاوہ جستہ جستہ بہت سے احکام و مسائل کے بارے میں یہ ثبوت موجود ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے لکھوائے ۔
٭سنہ 8 ہجری میں جب مکہ فتح ہوا تو حضور اقدس ﷺ نے انسانی حقوق اور مکہ کی حرمت کے مسائل بیان فرمائے:
اس پر ایک یمن کے باشندے نے خواہش ظاہر کی کہ یہ احکام لکھوا کر عنایت فرمائیں،
آپ نے فرمایا :
اكْتُبُوا لِأَبِي شَاه
یہ احکام ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔
(دیکھیے:صحیح بخاری ، حدیث: 2434)
٭حضورِ اقدس ﷺ نے دیت کے مسائل لکھوا کر بھجوائے۔
(نزہۃ القاری، ص70)
٭حضور اقدس ﷺ نے قبیلہ جہینہ کے پاس مردہ جانوروں کے احکام لکھوا کر بجھوائے۔
(نزہۃ القاری، ص70)
٭حضور اقدس ﷺ نے زکوۃ کے مسائل کو ایک جگہ لکھوایا تھا، جس کا نام کتاب الصدقۃ تھا، مگر عما ل و حکام تک اسے روانہ نہ فرما سکے اور وصال ہوگیا، حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے عہد میں اسی کے مطابق زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم جاری کیا اور اسی کے مطابق وصول ہوتی تھی۔
(حوالہ سابق)
٭اسی کتاب الصدقہ کا مضمون وہ ہے جو حضرتِ ابو بکر صدیق نے حضرت انس کو دیا تھا، جس وقت انہیں بحرین کا عامل بنا کر بھیجا تھا، اس میں اونٹوں ، بکریوں اور سونے چاندی کی زکوۃ کے نصاب کی تفصیل تھی ۔ (دیکھیے:صحیح بخاری، حديث: 1454)
٭ حضور اقدس ﷺ نے حیات ِ مبارکہ کے اخیر ایام میں کثیر احادیث کا ایک صحیفہ لکھوا کر عمرو بن حزم کے ہاتھ یمن بھجوایا تھا۔
(سنن دار قطنی ، حدیث:2723۔ نزہۃ القاری، ص70)
٭ موطا امام مالک ص231میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہلِ یمن کے پاس ایک مکتوب عمر بن حزم کے ہاتھ بھیجا تھا، جس میں فرائض سنن اور دیت کے احکام لکھے تھے ۔
(دیکھیے: المستدرک علی الصحیحین،حدیث:1447)
٭زکوٰۃ کے احکام پر مشتمل ایک صحیفہ ابو بکر بن حزم والیِ بحرین کو لکھوایا تھا، یہ صحیفہ دیگر امراء کو بھی بھیجا گیا تھا، جو بعد میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللّٰہ تعالی علیہ نے ابن حزم سے لے لیا تھا۔
(سابق حوالہ)

