Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 113 of 116

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و تب علینا انک انت التواب الرحیم امین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔

صلی اللّٰہ علی النبی الامی والہ واصحابہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلوۃ وسلاماً علیک یا سیدی یا سیدی یا رسول اللّٰہ والحمد للّٰہ رب العلمین برحمتک یا ارحم الرحمین

 

تدوین حدیث

(اَز قلم : علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ)

اِس پرُفتن دور میں بعض گمراہوں نے انکارِ حدیث کا فتنہ کھڑا کیا ہے، اُن کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان احادیث نہیں لکھتے تھے، اس لیے یہ احادیث نا قابل ِ اعتبار ہیں، اس فتنے کے جواب میں شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارک پور (انڈیا)مفتی شریف الحق صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ نے نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری کے مقدمے میں باطل شکن دلائل دئے ہیں ، جن میں سے چند پیش ِ خدمت ہیں ۔

اگر یہ ثابت ہوجائے کہ احادیث کی کتابت کا کام عہدِ رسالت ہی میں شروع ہوا ہے اور ہر دور میں تسلسل کے ساتھ باقی رہا تو ان کے دعو ے کا کوئی وزن نہیں رہ جائےگا، اس لیے ہم ناظرین کو پہلے یہ بتانا چاہتےہیں کہ کتابتِ حدیث کا کام عہدِ رسالت ہی سے شروع ہوچکا تھا، اور ہر عہد میں تسلسل کے ساتھ باقی رہا۔

عہدِ رسالت میں کتابتِ حدیث

 

٭حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن عاص رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے سینکڑوں احادیث لکھیں۔

(صحیح بخاری،حديث: 113ملخصاً)

 

ان کے مجموعہ کا نام صادقہ تھا۔

(الطبقات الکبری لابن سعد،4/198)

٭احادیث کا ایک مجموعہ حضرت ِ انس رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے لکھا تھا۔

 

حضرت قتادہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں حضرتِ انس رضی اللّٰہ تعالی عنہ حدیث لکھوایا کرتے تھے، جب لوگوں کی کثرت ہوگئی تو وہ کتابوں کا صحیفہ لے کر آئے اور لوگوں کے سامنےرکھ کرفرمایا یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے رسول اللّٰہ سے سن کر لکھی ہیں ، اور آپ کو پڑھ کر سنا بھی دی ہیں۔

( تقیید العلم للخطیب البغدادی، 1/95)

 

٭حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے بھی احادیث لکھوائی تھیں، یہ ذخیرہ ان کے بیٹے کے پاس تھا۔

(دیکھیے: جامع بیان العلم وفضلہ،حدیث: 399)

 

٭حضرتِ سعد بن عبادۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے ایک کتاب میں احادیث کو جمع فرمایا تھا، جس کا نام ہی کتاب سعد بن عبادۃ تھا، یہ کئی پشتوں تک ان کے خاندان میں رہی۔

(دیکھیے:سنن الترمذی، حدیث:1343۔دیکھیے: مسند احمد، حدیث:22460۔ نزہۃ القاری، 1/68)

 

٭حضرت سعد بن ربیع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک مجموعہ مرتب فرمایا تھا۔

(نزہۃ القاری، 1/68)

 

٭حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے بھی دفتر کی دفتر احادیث لکھیں، یا لکھوائی تھیں۔

((نزہۃ القاری، 1/69)

 

٭ہمام ابن منبہ کا صحیفہ جو حضرتِ ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ کے انہیں دفتروں سے نقل ہوا تھا۔

(نزہۃ القاری، 1/69)

 

اب چھپ بھی گیا ہے ، جس کی اکثر احادیث بخاری ، مسلم ، مسند امام احمد میں بعینہ بلفظ موجود ہیں۔

(نزہۃ القاری، 1/69)

 

٭حضرت سمرہ بن جندب رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے بھی ایک مجموعہ تیار کیا تھا۔

(نزہۃ القاری، 1/69)

 

٭اور ابنِ عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہما نے فرمایاہے:

اس وقت کہ ہم لوگ حضور کے اردگرد بیٹھے لکھ رہے تھے۔

(سنن دارمی، حديث: 503)

 

اس سے ظاہر ہو ا کہ عام طور پر کچھ صحابہ حضورِ اقدس  کے ارشاد لکھا کرتے تھے، ابن عباس اور ابن عمر کے صحائف کا ذکر ملتا ہے۔

٭الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع صفحہ 100 پر ہے ،

عبد اللّٰہ بن عمر کے بارے میں یہ روایت ہے کہ وہ جب بازار جاتے تو اپنی کتابوں پر ایک نظر ڈال لیا کرتے، راوی نے بتا کید یہ بات کہی کہ یہ کتابیں حدیث کی تھیں ۔

(دیکھیے: الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ، حدیث:1039)

Share:
keyboard_arrow_up