Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 9 of 24

جب یہ دونوں حضرات غلہ لے کر گئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا شاہی پیمانہ چوری ہوگیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ارشاد پر ان دونوں بھائیوں کو بلایا گیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ:

ہمارا شاہی پیمانہ چوری ہوا ہے تم میں سے کسی کے پاس تو نہیں ہے انہوں نے کہا ہم تو آپ سے امداد لینے آئے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے تھوڑی آئے ہیں۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کو چاہیے تو یہ تھا کہ دونوں کی تلاشی کرتے ۔ جس کے پاس پیمانہ نکلتا اس کو سزا دے دی جاتی ۔ مگر کیا یہ کہ آپ نے ان سے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ جس کے پاس چوری کا مال برآمد ہو اس کی کیا سزا ہے؟ تو وہ بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت کا حکم جانتے تھے تو دونوں بھائیوں نے یہ کہا کہ ہمارے یہاں قانون یہ ہے کہ جس کے پاس سے مال نکلے اس کو قید کرلیا جائے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

یوسف علیہ السلام کے دربار مصر میں یہ قانون تھا کہ جس کے پاس سامان برآمد ہو اُسے سزا دی جائے، لیکن ان کی غرض یہ تھی کہ سگے بھائی کو یہاں روک لیا جائے تو سگے بھائی کے مال میں پیمانہ دبایا گیا ۔

یوسف علیہ السلام نے کمال حکمت سے ان سے پوچھا:

اب بتاؤ جس کے پاس پیمانہ برآمد ہو اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا :جس کے پاس پیمانہ نکلے اسے قید کرلیا جائے، یوسف علیہ السلام  نے فرمایا: تلاشی لو ۔ جب دونوں کی تلاشی لی گئی تو سگے بھائی کے مال میں پیمانہ برآمد ہوگیا ۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے کہنے کے مطابق ہم نے تمہارے بھائی کو گرفتار کر لیا، اپنے پاس رکھ لیا اب تم جا سکتے ہو۔ اس طرح دوسرے کو روانہ کیا ۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا: وَمَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّا اَنْ يَّشَآءَ اللهُ ۔(يوسف: ٧۶)

آپ دنیا کی تمام تفاسیر اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہاں آیت میں جو لفظ دین استعمال ہوا اس کے متعلق مفسرین فرماتے ہیں کہ مصر کے قانون کے مطابق یوسف علیہ السلام اپنے بھائی کو قید نہیں کر سکتے تھے.

مگر قرآنِ پاک نے کہا كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ ۔ (يوسف: ٧۶)  

یہ تدبیر یوسف علیہ السلام کو ان کے رب نے بتائی تھی ۔رب نے تعلیم فرمائی تھی۔ تو قرآن مجید سے ہم نے ثابت کیا کہ ”دین“ کے معنی ”قانون‘‘ کے بھی ہیں تو اب خطبہ میں پڑھی گئی آیت کا ترجمہ اور مفہوم یوں ہوگا کہ جو اسلامی دین کے علاوہ کسی اور دین کو قانون بنائے تو اللّٰہ تعالیٰ کے یہاں وہ نا قابلِ قبول ہے اور آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہے۔

عزیزانِ گرامی! پاکستان کو اس لیے بنایا گیا کہ یہاں”دین“ کا قانون ہو ، شریعت کا قانون ہو ، ہم اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزاریں ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے ایک جلسے میں کسی نے جناب محمد علی جناح صاحب سے پوچھا تھا کہ پاکستان میں کونسا قانون ہوگا؟ بانی پاکستان نے قرآن مجید اٹھا کر کہا تھا کہ پاکستان کو کسی قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پاکستان کا قانون بنا ہوا ہے یعنی قرآنِ مجید فرقانِ حمید ۔

یہ وعدہ کیا گیا کہ جب پاکستان بنے گا تو قرآن مجید کی حکمرانی ہوگی یعنی شریعتِ مطہرہ، نظامِ مصطفیٰﷺ کا نفاذ ہوگا۔ یہ پاکستان سیکولرزم (Secularism) کے تحت نہیں بنا سوشلزم(Socialism) یا کمیونزم (Communism) کے تحت نہیں بنا۔

پاکستان اگر بنا تو اسلام کے نفاذ کے لیے بنا ہے ۔ اب جو اس نظریہ کو نہیں مانتا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ پاکستانی نہیں، آپ کے دستور کے مطابق ، آئین کے مطابق بھی وہ پاکستانی نہیں ہے ۔

آپ ملاحظہ فرمائیں ۔

صدر مملکت کا حلف نامہ، وزیر اعظم کا حلف نامہ، اسپیکر کا حلف نامہ، ممبر قومی اسمبلی کا حلف نامہ، اس میں اس بات کو مانا گیا کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور نظریۂ پاکستان کا میں محافظ رہوں گا اس کو جاری کرنے اور نافذ کرنے کی میں کوشش کروں گا۔

Share:
keyboard_arrow_up