فقط
محمد عطاء اللہ نعیمی عفی عنہ
خادم جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان)
تخلیق پاکستان میں علمائے اہلسنت کا کردار
13؍ اگست 1991ء بمبئی بازار، کھارادر، کراچی میں ایک جلسۂ عام کے سے حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نے تخلیقِ پاکستان میں علمائے اہلسنت کے کردار پر بھر پور خطاب فرمایا ۔ جسے کیسٹ سےسُن کر حافظ عبد الرحمٰن قادری نے نقل کیا ۔
نحمدهٗ ونصلى على رسولہ الكريم .... بسم الله الرحمن الرحيم
۔محترم حضرات! سب سے پہلے تو میں عرض کروں گا کہ پاکستان کیوں بنا؟ اس کی غرض وغایت ۔کیا تھی ؟ پاکستان بنانے کا شوق ہمیں کیوں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ ایسی آزاد مملکت ہو کہ جس میں مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق حکومت بنائیں ۔ سیاسی نظام ۔تشکیل دیں ، اسلامی حکومت ہو، ہر شخص کو انصاف ملے ، ہر شخص کے ساتھ عدل ہو ، نمازوں کے پابند ہوں، ہماری نسلیں انگریزوں کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں ۔ اس لیے ایک خطہ ہمیں الگ درکار تھا، نفاذِ اسلام اور نظامِ مصطفیٰﷺنافذ کرنے کے لیے ہمیں پاکستان بنانے کی ضرورت پڑی۔
جو خطہ حاصل کرنے کا ہم نے خواب دیکھا اس سر زمین کا نام تحریک کے دوران پاکستان تجویز کیا ۔گیا پھر تحریکِ پاکستان چلی اور پاکستان بن گیا ۔ اصل مقصد دین کا، شریعت کا، نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا نفاذ تھا یہ اس کی اولین ترجیحات تھیں اور یہ بات یونہی مبہم نہیں بتائی جارہی بلکہ اس کا تذکرہ بانیِ پاکستان جناب محمد علی جناح نے متعدد جلسوں میں کیا، علمائے اہلسنت نے بنارس کی سنی کانفرنس میں جو قرارداد پیش کی اس کے محرکات بھی یہی تھے ۔ چاروں طرف سے جب مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان ہوا تو سب کے نزدیک یہ بات تھی کہ ایسا ملک ہو کہ جس میں نفاذ اسلام ہو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ وَهُـوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ یعنی اگر اسلامی قانون کے علاوہ کسی نے اور قانون قبول کیا وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو ہرگز قبول نہیں ہوگا ۔ نہ صرف یہ کہ اللہ رب العزت کے یہاں ناقابلِ قبول ہوگا بلکہ آخرت میں بھی ایسے لوگ خسارے میں ہونگے ۔ جنہوں نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اپنایا ہو۔
عزیزان گرامی! ہم نے دین کا ترجمہ قانون کیا تو آپ حضرات بہت ممکن ہے یہکہہ دیں کہ دین تو نماز پڑھنے کا نام ہے، روزہ رکھنے کا نام ہے، دین جو ہے ایک طریقے کا نام ہے لیکن میں عرض کروں کہ دین کا ترجمہ آئین بھی کیا جا سکتا ہے۔ دین کا ترجمہ قانون بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ قرآن مجید فرقان حمید سے میں ایک مثال عرض کرتا ہوں ۔
حضرت یوسف کے بھائیوں نے آپ کو کنویں میں ڈال دیا کنویں سے نکلنے کے بعد آپ مختلف جگہوں سے گزرتے ہوئے مصر پہنچ گئے اور شاہ مصر کے دربار میں پہنچنے کے بعد ایک دور ایسا آیا کہ آپ بادشاہ بن گئے جب آپ مصر کے بادشاہ بنے اس دوران جہاں حضرت یعقوب رہتے تھے وہاں سخت قحط ہوا۔ قحط ہونے کے بعد حضرت یوسف کے دو بھائی شاہ مصر کے دربار میں جانے کے ارادے سے نکلے کیونکہ مشہور ہوا کہ شاہ مصر غریب لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ دونوں بھائی حضرت یوسف کے دربار میں پہنچے ۔ ان میں ایک بھائی آپ کے سوتیلے اور ایک بھائی سگے تھے ۔ یوسف نے اپنے دونوں بھائیوں کو پہچان لیا جب کہ وہ یوسف کو نہ پہچان سکے۔ حضرت یوسف نے اپنے سگے بھائی کو بلانے کے بعد کہا کہ سنا تھا کہ تمہارا کوئی بھائی یوسف تھا ؟ اس نے کہا "ہاں"۔ جانتے ہو اس کا کیا ہوا ؟ اس نے اور کچھ جواب دیا ۔ فرمایا نہیں ۔ بلکہ یہ جو تمہارے سامنے کھڑا ہے یہی تمہارا بھائی ہے اور میں مصر کا بادشاہ ہوں مگر خبر دار اس راز کو اپنے دوسرے بھائی سے بیان نہ کرنا ۔ ان کو خاموش کر دیا۔ خاموش کرنے کے بعد چونکہ دونوں بھائی اعانت اور مدد کے لیے آئے تھے۔ چنانچہ ان کی اعانت کی گئی ۔ اس زمانے میں ترازو کا رواج نہیں تھا پیما نہ جو گلاس نما ہوتا تھا اس کا رواج تھا۔ چنانچہ اس پیمانے سے بھر کر جب دونوں کو غلہ دیا گیا تو غلہ دینے کے بعد حضرت یوسف کی ہدایت پر سگے بھائی کے مال میں شاہی پیمانہ کو رکھ دیا گیا ۔
Page 8 of 24

