Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 7 of 24
اللہ تعالیٰ دارین کی سعادتیں عطا فرمائے اُن علماء و مؤرخین کو جو وقتاً فوقتاً تقریرًا اور تحریرًا ہمارے ان بزرگوں کا تذکرہ کرتے رہے ہیں جن کے مساعی آزادی کا سبب بنے ، جن کی قربانیوں نے ہمیں غلامی سے نجات دلائی اور جو پاکستان کے حقیقی بانی ہیں ، ان علماء میں ایک نام عوام اہلسنت کی ہر دلعزیز شخصیت ، عوام و خواص اہلسنت کا درد رکھنے اور اسے محسوس کرنے والی ذات، اپنے شب روز مسلک و مذہب کے افکار کی ترویج، اشاعت اور عمل کی تلقین کرنے والی ہستی ہے، میری مراد پیر طریقت رہبر شریعت سید شاہ تراب الحق قادری﷫ ہیں جنہوں نے اس بے حسی اور نفسا نفسی کے اس دور میں آج کے نوجوانوں اور حقائق سے بے خبر لوگوں کو سچ اور حق سے آگاہ کرنے کی سعی کی عوام و خواص جو حقیقت سے نا آشنا ہیں انہیں بتایا کہ آزادی اور قیامِ پاکستان کے حامی کون لوگ تھے، اس کے لیے جد و جہد کن لوگوں نے کی اور ۔کون انگریزوں کے یار اور قوم کے غدار، ہندؤوں کے طرفدار اور قیامِ پاکستان کے مخالف تھے، کون انگریز کے وفادار اور اس کے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں رہے اور پھر ہندؤوں کے خیر خواہ بن کر کانگریس میں شامل ہو کر یا دیگر تحاریک کے ذریعے ہندؤوں کے لیے کام کرتے رہےاور آزادیِ ہند اور قیامِ پاکستان اس جدوجہد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور پھر قیامِ پاکستان کے بعد اس کے حامی و بانی کہلانے لگے۔فقط
احقر محمد عطاء اللہ نعیمی عفی عنہسخن ہائے گفتنی
اصل میں یہ حضرت کی ایک نشری تقریر تھی جسے آپ کے ایک مرید ،متعلمِ علومِ دینیہ محترم جناب عبدالرحمٰن قادری نے اسے لکھا اور حضرت کی خدمت میں پیش کر دیا، حضرت کی تصحیح کے بعد اسے ترجمانِ اہلسنت ماہنامہ’’ مصلح الدین‘‘ میں تین اقساط میں شائع کیا گیا اور اب اسے دوبارہ تصحیح اور اضافے کے بعد ایک رسالے کی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے اور مجھے اس ۔کی تقدیم اور حواشی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ، میں کما حقہ تو نہ نبھا سکا اس کی چند وجوہات تھیں جیسے ایک مناسب مواد کا نہ ہونا اور پھر جو ملا وہ بھی تاخیر سے ملا، پھر وقت نہ ملنا، اشاعت کی تاریخ کا بالکل قریب ہونا اور سب سے بڑی وجہ وہ یہ کہ میں لکھنے کا اہل نہ تھا یہ تو احباب کا حسن ظن تھا کہ مجھے اس قابل سمجھ لیا اور یہ محنت طلب کام میرے سپر د کر دیا ، مگر حضرت کی دعاؤں کے حصول اور قوم و ملت اور وطن کی خدمت کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے میں نے حامی بھر لی اور پھر جب لکھنے بیٹھا دیکھا کہ یہتو ایک مبسوط کتاب بن رہی ہے، جمعیت اشاعت اہلسنت( پاکستان ) کے سلسلۂ اشاعت کے لیے مسائل کھڑے ہونے کا خوف دامن گیر ہوا کیونکہ اس کا ایک ایڈیشن ممبران کو سلسلہ مفت اشاعت کے تحت ارسال کیا جاتا تھا تو پوسٹ کرنے میں پریشانی ہوتی اور پھر حواشی اس نہج پر لکھے جاتے تو وقت بھی اس بات کی اجازت نہیں دے رہا تھا کہ وقت پر کتاب کو منظر عام پر لایا جا سکتا تھا، ان وجوہات کی بناء پر کچھ کام چھوڑ دیا کہ کئی علمائے اہلسنت کے حالات نہ لکھ سکا اور کئی لکھے ہوئے صفحات اور ۔کئی ٹائپ شدہ اوراق کو میں نے اس سے الگ کر دیا، بہر حال جو کر سکا اسے میں اپنے لیے غنیمت سمجھتا ہوں ، اس میں اُن احباب کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے اس کام میں میرے ساتھ تعاون کیا اُن میں سر فہرست مولانا محمد عرفان ضیائی صاحب ، مولانا مختار صاحب ہیں، پھر مواد فراہم کرنے میں محترم عبدالرحمٰن قادری، سید رفیق شاہ صاحب، حضرت علامہ نسیم احمد صدیقی، محمد عنایت اللہ قادری اور مشورے عنایت فرمانے میں محمد عارف نوری صاحب، عملی طور پر تعاون کرنے میں مولانا محمد عرفان المانی و غیر ہم قابل ذکر ہیں، میں ان تمام حضرات کا کہ جن کے اسماء ذکر کیے ہیں اور جن کے ذکر نہ کر سکا سب کا مشکور و ممنون ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کی کاوشوں کو اپنے حبیبﷺکے صدقے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے اسلاف کی قربانیوں کی قدر کرنے کی اور اُن کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے اُن کے قائم کردہ ملک کو بچانے کی ہم سب کو توفیق مرحمت فرمائے ۔آمین
Share:
keyboard_arrow_up