Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 6 of 24
جب کہ سید انور علی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی عالم علامہ عبد القدیر بدایونی کے گاندھی کو لکھے گئے خط کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ’’اس حقیقت کے پیش نظر کہ پاکستان کا ۔مفصل خاکہ ۱۹۲۵ء میں جناب محمد عبد القدیر بدایونی﷫نے پیش کیا،یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصور پاکستان علامہ اقبال نہیں بلکہ موصوف تھے ۔ علامہ اقبال نے پانچ برس بعد ۱۹۳۰ء میں آپ ہی سے روشنی حاصل کر کے سیاسی پلیٹ فارم سے یہ تصور پیش کیا، اس حقیقت کا
اعتراف ہر انصاف پسند کو کرنا چاہیے‘‘۔
اور امام اہلسنت کے افکار و نظریات کی مسلم لیڈران پر اثر اندازی کو ڈا کٹر محمد مسعود نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ پاک و ہند کے عظیم مفکر اور شاعر اسلام علامہ اقبال جو پہلے ایک قومی نظریہ کے مؤید تھے اور بعد میں اس کے سخت مخالف ہو گئے تھے، مکتوبات حضر ت مجد دالف ثانی اور فاضل بریلوی کے فتاویٰ رضویہ کا عمیق مطالعہ فرمایا تھا، اس لیے ظن غالب ہے کہ علامہ کے افکار و خیالات میں ان دونوں مآخذ نے ایک انقلاب پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
سید انور علی ایڈووکیٹ سپریم آف پاکستان لکھتے ہیں:”علمائے اہلسنت نے نہ صرف نظریہ پاکستان پیش کیا بلکہ سب سے پہلے مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ﷫نے اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ۱۹۲۵ء میں مراد آباد میں’’ آل انڈیا سنی کانفرنس“ کی بنیا د رکھی ۔
اس پس منظر کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی اور یہ تاریخی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی سر زمینِ ہند پر حضرت مجد دالف ثانی کے بعد دو قومی نظریہ علماء و مشائخِ اہلسنت و جماعت نے خصوصاً امامِ اہلسنت امام احمد رضا اور ان کے خلفاء و تلامذہ نے پیش کیا،یہی نظریہ قیامِ پاکستان کی اساس بنا، دیکھیے ڈاکٹر اقبال تو قیامِ پاکستان کا مطالبہ ۱۹۳۰ء میں کرتے ہیں لیکن اس سے پانچ چھ سال قبل ۱۹۲۵ء کے اوائل میں اس ضرورت کا احساس آل انڈیا سنی کانفرنس، مراد آباد کے اجلاس میں علماء و مشائخِ اہلسنت نے دلایا ۔
۔مگر ہوا یہ کہ ان میں سے اکثر کے نام اور کام کو محفوظ کرنے کا بندوبست نہ کیا گیا ،اس لیے آج مسلمانانِ ہند و پاک کی اکثریت ان کے ناموں سے بھی واقف نہیں اور بعض کو متعصب و خائن تاریخ لکھنے والوں نے قصدً افراموش کر دیا اور ستم ظریفی یہ کہ کل جو لوگ صلح کلی کے قائل تھے، آج ان کو دو قومی نظریہ کا علمبر دار قرار دے دیا گیا ، جو انگریز کے خیر خواہ اور ان کے ایجنٹ تھے اُن کو تحریک آزادی کا ہیرو بنا کر پیش کر دیا گیا اور جو کانگریس کے حامی ، گاندھی اور نہرو کے خیر خواہ تھے اور پاکستان اور قیام پاکستان کے لیے جد و جہد کرنے والوں کے مخالف تھے، انہیں اُن کا نام پاکستان بنانے والوں اور اس کے قیام کے لیے جد وجہد کرنے والوں، قربانیاں دینے والوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا اور آج کا جوان جو تاریخی حقیقت سے بے خبر اور تاریخ لکھنے والوں کی بد دیانتی سے نا آشنا ہے وہ ان ہی صلح کلی کے حامیوں کو دو قومی نظریے کے علمبردار، انگریز کے ایجنٹوں اور مسلمانوں سے جنگیں لڑنے والوں کو آزادی کا ہیرو اور مخالفینِ پاکستان کو بانیانِ پاکستان سمجھنے لگ گیا ۔
ہاں ہم اپنے قصور کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے بھی اس معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا، ہم نےبھی اپنی قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش نہیں کی، ہمارے بچے نصاب میں تاریخ کے حوالے سے جھوٹ پڑھتے رہے، ہم نے ان کو کبھی سچ بتانے کی کوشش نہ کی ، لوگ جشنِ آزادی کے نام پر خدا و رسول کی نا راضگی کا با قاعدہ اہتمام کرتے رہے، ہم نے انہیں اپنے رہنماؤں کی قربانیاں یاد نہ دلائیں ، ان کے نام نہ بتائے ، ان کے کارنامے نہ سنائے، ہمارے خطیبوں نے ممبروں پر بیٹھ کر آزادی کے لیے سعی کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی جیسی سعی ۔کرنی چاہیے تھی ویسی نہ کی، ہاں ہاں ہم اعتراف کرتے ہیں ہم بھی قصور وار ہیں، کوتاہی ہم سے بھی ہوئی،سستی ہم نے بھی کی ہے اور اس سستی،کوتا ہی کا جو نتیجہ برآمد ہوا وہ سب کے سامنے ہے کہ کل جو دشمنانِ پاکستان اور وفادارانِ انگریز و کانگریس تھے آج جزوی طور پر ہم پر حاکم بنے ہوئے ہیں اور کلی طور پر حاکم بننے اور ہمیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھ رہے ہیں ، صرف خواب ہی نہیں بلکہ عملی طور پر جد و جہد میں مصروف ہیں اور ہم ہیں جو اپنی ۔اکثریت پر نازاں خوابِ غفلت میں مستاں ہیں کہ ہم اکثریت ہیں اور اس پر خوش ہیں کہ ہم پاکستان کے بانی ہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ جس رفتار سے اور جس انداز سے نو جوانوں کے عقائد کو برباد کیا جا رہا ہے، اگر یہ سلسلہ مزید جاری رہا اور ہم سوئے رہے تو یہ اکثریت اقلیت میں بدل جائے گی اور جس طرح تاریخ کو بدل دیا گیا، دشمنانِ پاکستان کو بانیانِ پاکستان کے روپ میں پیش کر دیا گیا ہے، اگر تاریخ دانوں کی بد دیانتی جاری رہی اور ہم نے نوجوان نسل کو تاریخی حقائق سے آگاہ نہ کیا اور ہم غافل رہے، مصلحت پسندی کا شکار رہے تو قوم ہمیں مخالفینِ پاکستان سمجھنے لگ جائے گی اور ہمارے اسلاف کو جنہوں نے آزادی اور قیامِ پاکستان کے لیے اپنے تن من دھن الغرض ہر قسم کی قربانی دی، اپنے جملہ مساعی صَرف کیے ، اُن کو غدارانِ قوم اور دشمنانِ اسلام و پاکستان کہنے لگ جائے گی ، اب بھی وقت ہے اگر ہمیں اپنے تشخص کو برقرار رکھنا ہے تو جاگنا ہوگا۔
Share:
keyboard_arrow_up