یہ سارے واقعات ہمارے اسلاف کی انگریز سے نفرت کی شدّت پر دلالت کرتے ہیں ۔
امامِ اہلسنت نے ۱۳۱۸ھ/ ۱۸۹۷ء میں پٹنہ کے عظیم الشان اجتماع میں انگریزوں کے بہی خواہوں کی زبردست مذمّت کی کہ’’ ہندو الگ قوم ہے اور مسلمان الگ قوم،
مسلمانو! سرکار اعظم ﷺ کا فرمان ہے کہ:
کفر ایک ملت ہے‘‘ یعنی کفر برطانیہ کا ہویا امریکہ کا ہویا چاہے کفر ہندوستان کا ہو وہ کفر ہی ہے، کفر ایک ملت ہے، مسلمانو! تم یہ سمجھے ہم نے ہندوستان کےکافروں سے صلح کر کے لندن کے کفر کو بھگا دیا ہے اور ہندو تمہیں حکومت دیں گے؟ نہیں نہیں!! گاندھی اور اس کی لابی بھی یہی چاہتی ہے کہ مسلمانوں کو ساتھ ملا کر انگریزوں کو بھگا دیا جائے اور اکثریت میں تو ہند وہیں، یہ تمام ہند و سیاست پر چھا جائیں گے اور اس طرح ہندوستان پر ہماری حکومت ہوجائے گی اور مسلمانوں کو دوبارہ کچل دیا جائے گا۔
(تحریک آزادی ہند اور مشائخ و علماء کا کردار ، ص ۱۲)
امام اہلسنت نے ایسے وقت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی جس وقت مسلمانوں کے نامی گرامی لیڈر ہند و مسلم اتحاد کے داعی تھے اور اُن کی تمام کوششیں بھی اس قسم کے اتحاد کیلیے وقف تھیں، مسلم قومیت کے علمبردار کی اخلاص سے بھر پور مدد بھری رہنمائی ہی تھی، ان میں سے سنی حضرات آپ کی اور آپ کے تلامذہ و خلفاء کی کوششوں سے دو قومی نظریہ کے حامی اور مؤید بن گئے۔
نامور صحافی اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن جناب محمد شفیع نےاس تاریخی حقیقت کا برملا اظہار کرتے ہوئے امام اہلسنت کو یوں خراج عقیدت پیش کیا:
”اعلیٰ حضرت قدس سره نے جس یک سوئی اور استقلال سے دور غلامی میں دین متین کی مدافعت کا مقدس فریضہ سر انجام دیا، جوں جوں وقت گزرتا جائے گا اس کا اعتراف امت کے تمام طبقوں کو ہوتا جائے گا جس وقت ہمارے اسلاف کی بد اعمالیوں سے سلطنت ہمارے ہاتھ سے چھن گئی تھی اور جس دور میں سب سے اہم کام اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا کہ ملت کے اجماع کو پارہ پارہ ہونے سے بچایا جائے، اُن کے عقائد کو سچ ہونے سے محفوظ رکھا جائے ، اور ہر اس سازش کو کچل کر رکھ دیا جائے جس کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں محمد ﷺ کی غیر فانی محبت کا رشتہ مٹا کر غیر اسلامی عقائد کی تخم ریزی تھی، یہ کار نامہ اعلیٰ حضرت نے نہایت نامساعد حالات میں انجام دیا، اس لحاظ سے اعلیٰ حضرت ملّتِ اسلام کے عظیم محسن تھے ۔
(بحوالہ روزنامہ نوائے وقت، لاہور، ۷ جون ۱۹۶۸ء ۔پاکستان بنانے والے علماء و مشائخ، ص ۲۳،۲۴
علیحدہ مملکت کا مفصل اور واضح خاکہ سب سے پہلے ۱۹۲۰ء میں اہلسنت و جماعت کے فاضل عالم محمد عبد القدیر بدایونی نے مسٹر گاندھی کے نام ایک خط میں پیش کیا تھا، یہ مفصل و مبسوط خط اخبار ” ذوالقرنین (بدایوں بھارت) میں مارچ و اپریل ۱۹۲۰ء میں قسط وار شائع ہوا، اس کے بعد رسالہ کی صورت میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ پریس سے شائع ہوا ۔
(تحریک آزادی ہند اور السواد الاعظم، تقدیم از سید انور علی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان ، ص ۳۵-۳۶)
اور اس خط کا ذکر پاکستان کے مشہور مؤرّخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی انگریزی کتاب ’’دی اسٹرگل فار پاکستان‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
اب ایک غیر جانبدار مشہور مؤرخ اور کالم نگار جناب میاں عبد الرشید صاحب کا بیان دیکھیے جو خصوصی توجہ کا مستحق ہے چنانچہ لکھتے ہیں:
”۱۹۴۰ء میں جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی تو حضرت بریلوی کی کوششیں بار آور ہوئیں اور علمائے کرام اور پیران عظام سمیت آپ کے پیروکار اور متوسلین جسد واحد بن کر تحریک پاکستان کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے، اس طرح قیامِ پاکستان کے سلسلہ میں حضرت بریلوی کا حصہ علامہ اقبال اور قائد اعظم سے کسی طرح کم نہیں‘‘۔
(پاکستان بنانے والے علماء و مشائخ ، مصنفہ مولانا محمد جلال الدین قادری، ص ۲۴)

