Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 5 of 24
۔کہ تم ہمارے ترک بھائیوں کا خون بہا رہے ہو۔
یہ سارے واقعات ہمارے اسلاف کی انگریز سے نفرت کی شدّت پر دلالت کرتے ہیں ۔
امامِ اہلسنت نے ۱۳۱۸ھ/ ۱۸۹۷ء میں پٹنہ کے عظیم الشان اجتماع میں انگریزوں کے بہی خواہوں کی زبردست مذمّت کی کہ’’ ہندو الگ قوم ہے اور مسلمان الگ قوم ، مسلمانو ! سرکاراعظم ﷺ کا فرمان ہے کہ کفر ایک ملت ہے‘‘ یعنی کفر بر طانیہ کا ہو یا امریکہ کا ہو یا چاہے ۔کفر ہندوستان کا ہو وہ کفر ہی ہے، کفر ایک ملت ہے، مسلمانو! تم یہ سمجھے ہم نے ہندوستان کے ۔کافروں سے صلح کر کے لندن کے کفر کو بھگا دیا ہے اور ہندو تمہیں حکومت دیں گے؟ نہیں نہیں!! گاندھی اور اس کی لابی بھی یہی چاہتی ہے کہ مسلمانوں کو ساتھ ملا کر انگریزوں کو بھگا دیا جائے اور اکثریت میں تو ہندو ہیں،یہ تمام ہندو سیاست پر چھا جائیں گے اور اس طرح ہندوستان پر ہماری حکومت ہو جائے گی اور مسلمانوں کو دوبارہ کچل دیا جائے گا۔ امام اہلسنت نے ایسے وقت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی جس وقت مسلمانوں کے نامی گرامی لیڈ رہندو ۔مسلم اتحاد کے داعی تھے اور اُن کی تمام کوششیں بھی اس قسم کے اتحاد کیلیے وقف تھیں،مسلم قومیت کے علمبر دار کی اخلاص سے بھر پور مدد بھری رہنمائی ہی تھی، ان میں سے سنی حضرات آپ کی اور آپ کے تلامذہ و خلفاء کی کوششوں سے دوقومی نظریہ کے حامی اور مؤید بن گئے ۔
نامور صحافی اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن جناب محمد شفیع نےاس تاریخی حقیقت کا بر ملا اظہار کرتے ہوئے امام اہلسنت کو یوں خراج عقیدت پیش کیا:”اعلیٰ حضرت قدس سره نے جس یک سوئی اور استقلال سے دور غلامی میں دین متین کی مدافعت کا مقدس فریضہ سر انجام دیا ، جوں جوں وقت گزرتا جائے گا اس کا اعتراف امت کے تمام طبقوں کو ہوتا جائے گا جس وقت ہمارے اسلاف کی بداعمالیوں سے سلطنت ہمارے ہاتھ سے چھن گئی تھی اور جس دور میں سب سے اہم کام اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا کہ ملت کے اجماع کو پارہ پارہ ہونے سے بچایا جائے ، اُن کے عقائد کو سچ ہونے سے محفوظ رکھا جائے ، اور ہر اس سازش کو کچل کر رکھ دیا جائے جس کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں محمد ﷺ کی غیر فانی محبت کا رشتہ مٹا کر غیر اسلامی عقائد کی تخم ریزی تھی، یہ کارنامہ اعلیٰ حضرت نے نہایت نا مساعد حالات میں انجام دیا، اس لحاظ سے اعلیٰ حضرت ملّتِ اسلام کے عظیم محسن تھے ۔
علیحدہ مملکت کا مفصل اور واضح خاکہ سب سے پہلے ۱۹۲۰ء میں اہلسنت و جماعت کے فاضل عالم محمد عبد القدیر بدایونی نے مسٹر گاندھی کے نام ایک خط میں پیش کیا تھا، یہ مفصل و مبسوط خط اخبار ” ذوالقرنین (بدایوں بھارت) میں مارچ واپریل ۱۹۲۰ء میں قسط وار شائع ہوا، اس کے بعد رسالہ کی صورت میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ پر یس سے شائع ہوا ۔
اور اس خط کا ذکر پاکستان کے مشہور مؤرّخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی انگریزی کتاب ’’دی اسٹرگل فار پاکستان‘‘ میں ذکر کیا ہے ۔
اب ایک غیر جانبدار مشہور مؤرخ اور کالم نگار جناب میاں عبد الرشید صاحب کا بیان دیکھیے جو خصوصی توجہ کا مستحق ہے چنانچہ لکھتے ہیں:”۱۹۴۰ء میں جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی تو حضرت بریلوی کی کوششیں بارآور ہوئیں اور علمائے کرام اور پیران عظام سمیت آپ کے پیروکار اور متوسلین جسد واحد بن کر تحریک پاکستان کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے، اس طرح قیامِ پاکستان کے سلسلہ میں حضرت بریلوی کا حصہ علامہ اقبال اور قائد اعظم سے کسی طرح ۔کم نہیں‘‘۔
Share:
keyboard_arrow_up