بر صغیر میں انگریزوں کے خلاف جب تحریکِ ترکِ موالات شروع ہوئی تو دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے ملّی تشخص کو ختم کرنے کے لیے ہند و مسلم اتحاد کا ڈھونگ رچایا، ایک قومی نظریہ کا پرچار کیا تو امام اہلسنت امام احمد رضا نے دشمن کی اس سازش کو بھانپا اور دو قومی نظریہ کا تصور مسلمانانِ ہند کے سامنے پیش کیا کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو الگ الگ قومیں آباد ہیں اور یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ امام اہلسنت نے ۱۸۹۷ء میں دو قومی نظریہ پیش کیا،
حدیث شریف میں ہے:
’’اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللّٰہ‘‘ اس فراست ایمانی کی بدولت اہلسنت کے عظیم رہنما نے ۱۸۹۷ء میں پٹنہ کے ایک عظیم الشان جلسہ میں اور بعد میں ۱۹۲۰ء میں ایک سوال کے جواب میں جو کچھ فرمایا وہی دو قومی نظریہ کی بنیاد بنا، آپ نے مسلمانوں کو ہندوؤں اور انگریزوں کے فریب سے بر وقت آگاہ کیا، یہ وہ نازک دور تھا کہ بڑے بڑے لیڈر گاندھی کی آندھی کا شکار ہوچکے تھے حتیٰ کہ حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی، ڈاکٹر اقبال اور جناح صاحب بھی ہند و مسلم اتحاد کی مضرت کو نہ سمجھ سکے تھے۔
کتنی دکھ کی بات ہے کہ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کی تاریخ مرتب کرنے والے اور بد دیانت مؤرخوں نے اُن فرزندانِ توحید اور مردانِ حق کی بے مثال قربانیوں کو زینت طاقِ نسیان بنادیا۔
جنہوں نے راہِ حق میں بے پناہ مظالم برداشت کیے، جام شہادت نوش کیا، اس کے برعکس انگریز کے وظیفہ خوروں اور اسلام کے غداروں کو جنگ آزادی کا ہیرو بنا کر پیش کر دیا۔
اکابر سنی علماء فرنگی سامراج سے ٹکرائے، اسلام کے تحفظ کے لیے جان کی بازی لگا کر شمع حریّت کو ابدی تابانی بخشی اور انگریز کے خلاف سب سے پہلے تحریک آزادی کا سنگ بنیاد رکھا جو تاریخ میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے نام سے مشہور ہے، جنگ آزادی سے متعلق تاریخ کی مروجہ کتب میں اسلام کے ان جلیل القدر سپوتوں کا کوئی ذکر نہیں، آزادی کی یہ جنگ سنی علماء و مشائخ کے جذبۂ اسلامی اور خدمت دینی کا روشن باب ہے، بعد میں رونما ہونے والی تمام تحاریک اسی تحریک آزادی کے سلسلہ کی کڑیاں اور جذبہ حریت کے اس عظیم مینار کی کرنیں ہیں۔
فرنگی سامراج کے خلاف سنی علماء و مشائخ کی یہ تحریک غیر منظم ہونے کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی، انگریز نے بظاہر تحریک آزادی کو کچل دیا مگر وہ مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ حریت کو نہ نکال سکے۔
تعصب کی بنا پر سنی علماء کو ویسے بہت کچھ کہا جاتا ہے مثلاً بدعتی ، قبر کے پجاری، میلاد خوان وغیرہ اس سے بڑھ کر انگریز کا ایجنٹ اور وفادار تک کہہ دیا حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ سنی علماء نے ہی انگریز کی مخالفت میں پہل کی، یہاں تک کہ مشہور نقاد صوفی شوکت صدیقی بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ان کے بارے میں وہابیوں کا یہ الزام ہے کہ وہ انگریزوں کے پروردہ یا انگریز پرست تھے نہایت گمراہ کن اور شر انگیز ہے، وہ انگریزوں اور ان کی حکومت کے کٹر دشمن تھے کہ لفافہ پر ہمیشہ الٹا ٹکٹ لگاتے تھے اور فرماتے کہ میں نے جارج پنجم کو الٹا کر دیا، انہوں نے انگریز کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا۔
مشہور ہے کہ مولانا احمد رضا خان نے کبھی عدالت میں حاضری نہ دی اور یہ کہہ کر نہ دی کہ میں انگریز حکومت کو ہی جب تسلیم نہیں کرتا تو اس کے عدل و انصاف اور عدالت کو کیسے تسلیم کروں۔
ایسی ہی جرأت و بہادری کا مظاہرہ فخر اہلسنت، تحریک پاکستان کے سر گرم رکن حضرت پیر غلام مجدد سرہندی میاری والے (م۱۳۷۷ھ) نے فرمایا،
چنانچہ محمد صادق قصوری اور دیگر نے لکھا کہ آپ کو ۷ا ستمبر ۱۹۲۱ء کو حیدر آباد سے گرفتار کیا گیا اور اسپیشل ٹرین کے ذریعے کراچی لایا گیا، ۔
گرفتاری کے بعد والدہ ماجدہ نے بڑا جرأت انگیز اور ایمان افروز پیغام ارسال فرمایا:
’’اگر تمہارا عقیدہ سچا ہے تو ہرگز ان سے معافی نہ مانگنا جو تمہارے عقائد کے خلاف ہیں اور اگر معافی مانگی تو اپنا منہ ہم کو نہ دکھلانا‘‘۔ اس کیس کی کاروائی میں دو باتیں یاد رکھنے کے قابل ہیں اور ہماری نئی نسل کے لیے خضرِ راہ ہیں،
آپ نے فرمایا:
قید میرا ورثہ ہے کیونکہ میں تو غلام مجدد اور اولاد حضرت مجدد الف ثانی ہوں جن کو جہانگیر نے قلعہ گوالیار میں نظر بند کر دیا تھا۔
پھر ارشاد فرمایا:
کاش مجھ پر آج یہ مقدمہ ہوتا کہ میں نے انگریز بادشاہ جارج پنجم کو قتل کیا ہے اور اس کے خون سے میرے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح انگریز جیلر کو تھپڑ مارنے کا واقعہ اسی طرح انگریز کلکٹر مسٹر پیسن (جو بعد میں چیف کمشنر بنا) کے شربت پیش کرنے پر یہ کہتے ہوئے شربت پینے سے انکار کر دینا کہ اگر اس گلاس میں شربت کی جگہ تمہارا خون ہوتا تو میں پی جاتا، اس لیے کہ تم ہمارے ترک بھائیوں کا خون بہا رہے ہو۔
(ملخصاًتحریک پاکستان اور مشائخ عظام، ص۱۲۵، ۱۲۶)

