Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 3 of 24

اور اس مشن میں آپ کی اولاد، آپ کے خلفاء سب آپ کے ساتھ شریک رہے اور آپ کے وصال کے بعد اس مشن کو یہ لوگ آگے بڑھاتے رہے، جوں جوں وقت گزرتا گیا اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور یہ نظریہ لوگوں کے دلوں میں راسخ ہوتا چلا گیا اور وہ اس تحریک کا حصہ بنتے چلے گئے.

اسی طرح ہر دور میں مسلمان علماء، فضلاء، ادباء، شعراء، مفکر، محقق، صاحبانِ طریقت و شریعت اور دانشور اس تحریک میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتے رہے،

جن میں حضرت شاہ ولی اللّٰہ،

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی،

فضل امام خیر آبادی،

عظیم مجاہدِ اسلام علمی دنیا کے رشک آفتاب شعریٰ ستارے حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی،

علامہ مفتی عنایت احمد کا کوروی،

مفتی صدرالدین آزده،

علامہ کفایت علی کافی شہید،

مولانا فیض احمد بدایونی،

مولانا احمد الله شاه مدراسی،

مولانا رضی الدین بدایونی،

سید وہاج الدین مراد آبادی،

مولانا امام بخش صہبائی،

مولانا رحمت اللّٰہ کیرانوی،

مفتی سعید احمد بدایونی،

مولوی اشرف علی نفیس،

شہداء اسلام میں سے ایک عظیم شہید ٹیپوسلطان رحمۃ اللّٰہ علیہ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام اور آزادی کے لیے ۱۸۵۷ ء یا اس سے قبل قربانیاں دیں،’’صرف ۱۸۵۷ء میں پھانسی پانے والے اور جلا وطن کیے جانے والے افراد کے متعلق جو اعداد و شمار بیان کئے گئے ہیں اس کے مطابق پانچ لاکھ مسلمانوں کو سزائے موت دی گئی اور تین ہزار مسلمانوں کو جزیرہ انڈمان لے کر جاکر نظر بند کیا گیا ۔ (مسلمانوں کی ڈیڑھ سو سالہ قربانیوں کا جائزہ ، مرتبہ عزیز الرحمن جامعی مطبوعہ دہلی، ص ۹)

 

محمد شکیل اوج لکھتے ہیں:

اگر چہ اس بیان میں یہ متعین نہیں کیا گیا کہ سزا یافتہ افراد میں علمائے کرام کی تعداد کیا تھی تاہم قیاساً کہا جاسکتا ہے کہ ان میں علماء کی بھی بڑی تعداد ضرور ہوگی۔
(ضیاء حرم، لاہور، مجریہ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ / اگست ۱۹۹۷ء)

 

پھر حسن اسلام، پاسبان مسلک اہلسنت، مؤید مذہب حنفی، علمی و روحانی دنیا کے درخشاں ستارے، امام اہلسنت، امام احمد رضا شامل تھے ، پھر ان حضرات کی سعی و کوشش کے نتیجے میں اتنی بڑی جماعت پیدا ہوئی کہ جن کے صرف اسماء کو ہی تحریر کرنے کے لیے یہ چند صفحات نا کافی ہیں ۔

 

اس ملک کے حصول کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا جس کی حضرت مجد دالف ثانی نے اور پھر امام اہلسنت امام احمد رضا قدس سرہما نے اپنے اپنے دور میں اشاعت کی، دونوں بزرگوں کے ادوار کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ادوار میں تخریب دین کا کام علماء سوء نے کیا جن کو حکمرانوں کی سر پرستی حاصل تھی یا حکمرانوں نے کیا اُن کو علماء سوء کی معاونت حاصل تھی ۔

چنانچہ عبدالحکیم خان شاہجہاں پوری لکھتے ہیں:

”امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے دور میں دو طبقے تخریبِ دین کا کام کرنے میں پیش پیش تھے، یعنی حکومت اور نام نہاد مذہبی رہنما، بعینہ اسی صورت حال سے امام احمد رضا خان بریلوی نوراللّٰہ مرقدہ کو دو چار ہونا پڑا، وہاں اکبر اور جہانگیر تھے تو یہاں دشمنِ اسلام انگریز۔

وہ حکومت علی الاعلان اسلام کو بدلنے اور مٹانے پر مُصِر تھی لیکن انگریزی حکومت نا معلوم اور پر اسرار طریقوں سے اس وقت کے فیض و فضل سے محروم علماء جو دین محمدی کی جڑیں کھودنے میں مصروف تھے، وہ صاف نظر آتے تھے کہ اسلام دشمن حکومت کے اراکینِ سلطنت ہیں، لہٰذا عوام الناس انہیں اپنا رہنما تسلیم کرنے پر کبھی راضی نہیں ہو سکتے تھے لیکن برطانوی دور کے علمائے سوء نے ایسے نامعلوم طریقوں سے برٹش گورنمنٹ کے اسلام دشمنی والے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی منحوس کوشش کی کہ ملّتِ اسلامیہ کے کتنے ہی بیدار مغز حضرات تک کی قوتِ فیصلہ اُن کے کھوٹ کا سراغ لگانے سے قاصر ہو کر رہ گئی ۔ (برطانوی مظالم کی کہانی ص ۲۶)

Share:
keyboard_arrow_up