Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 2 of 24
۷۰
مولانا عبد الستار نیازی

۷۱
اعتراف حقیقت

۷۲
مولانا مودودی

۷۳
جو کل مخالف تھے

۷۴
دوچار کے علاوہ باقی دیوبندی علماء؟

۷۵
کلمات طیبات

۷۶
فتاویٰ

۷۷
کیا پاکستان بنانا معاشی مسئلہ تھا؟

۷۸
جناح صاحب سیکولرزم کے حامی نہیں تھے

۷۹
محمد علی جناح اور نفاذِ شریعت کا عزم

۸۰
دروغ گوئی


تقدیم
ہم اپنے اکابر کا ذکر اتنی شد ومد سے اس لیے کرتے ہیں کہ بقولِ اقبال تاریخ کسی قوم کا حافظہ ہوتی ہے ، یعنی جس طرح کوئی شخص اگر اپنی یادداشت کھو بیٹھے تو گویا وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے، اسی طرح جو قوم اپنی تاریخ گنوا دے وہ اپنا تشخص گنوا دیتی ہے، لہٰذا ہمیں تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے اکابر کا ذکر کرنا پڑتا ہے خصوصاً اُن اکابر کا ذکر جنہوں نے مسلمانوں ۔کو اکبری الحاد یا نصاریٰ کے جبر و استبداد کے زمانے میں اپنا تشخص برقرار رکھنے، پھر اہلِ ہند کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً نصاری کی غلامی سے نجات دلانے اور پھر مسلمانانِ ہند کو الگ وطن دلانے کے لیے سعی کی، جانی و مالی قربانیاں دیں، اس راہ میں تکلیفیں اور اذیتیں برداشت ۔کیں، میری مراد حضرت مجد دالف ثانی شیخ احمد سر ہندی فاروقی ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سلطان ٹیپو شہید ، علامہ فضل حق خیر آبادی، علامہ عنایت کا کوروی، امام اہلسنت اما م احمد رضا، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی، مولانا عبد الحامد بدایونی ، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر، مولانا عبدالعلیم صدیقی، پیر آف مانکی شریف ، پیر سید جماعت علی شاہ، مولانا عبد الستار خان نیازی، ڈاکٹر اقبال وغیرہم ہیں، یہ تاریخ ساز نام اور قد آور شخصیات ہیں، ان لوگوں نے مسلمانانِ برصغیر کو خوابِ غفلت سے جگانے اور ان کے اندر ایک فعال روح پیدا کرنے کے لیے اپنے شب وروز صرف کر دیئے اور مسلمانوں میں ایک ایسا پائیدار نصب العین متعین کیا جو حق پر مبنی اور سچائی کا آئینہ دار تھا ، جو مسلمانوں کی دنیوی و اخروی فلاح کا ضامن تھا، جو بعد میں دو قومی نظریہ کی صورت میں مشہور اور مقبول ہوا اور پھر اس نظریہ کی جس طرح وضاحت ہوتی چلی گئی، اسی طرح مسلمانوں میں علیحدہ وطن کی اُمنگ پروان چڑھتی گئی۔ پھر اگر بر صغیر میں مسلمانوں کی آمد اور ان کے عروج و زوال کی تاریخ پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس خطے میں دو قومی نظریہ کی ابتداء مغلیہ شہنشاہ اکبر کے دور میں ہوئی، جب اکبر نے ہندوستان کی ہندو رعایا کو حکمران طبقہ سے قریب لانے کی غرض سے دینِ محمدی ﷺ میں ترمیم اور تنسیخ ۔کرنے کی مذموم حرکت کی اور اس کا نام بدل کر دینِ الٰہی رکھ دیا تو اس وقت اسلام کے عظیم مجدد، مسلک اہلسنت اور حنفی مذہب کے ایک بڑے عالم ، تصوف کے امام حضرت مجدّدالف ثانی شیخ احمد سر ہندی فاروقی نے اکبر کی اس ملحدانہ جرأت کو چیلنج کیا اور مسلمانوں کی ملّی حیثیت کو ببانگ دہل مشتہر کیا، آپ نے فرمایا کہ اس برصغیر میں دوقو میں آباد ہیں، جو اپنے نظریات، دینی و ثقافتی روایات کی بنا پر ایک دوسرے کی ضد ہیں، اس لیےیہ کسی صورت میں ممکن نہیں کہ برصغیر میں ایک قومیت کی بات کی جائےاور مشہور سیاح ابو ریحان البیرونی نے بھی اپنے سفر نامے میں بڑے واضح الفاظ میں یہ بات کہی ہے کہ برصغیر میں دو ایسے گروہ آباد ہیں جن کا مذہب، سیاست اور ثقافت، ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں، لیکن ایک سیاح ہونے کی حیثیت سے البیرونی کی اس نشاند ہی کو ایک مسافر کا مشاہدہ تو کہہ سکتے ہیں مگر اسے کسی نظریہ کی بنیا د قرار نہیں دے سکتے ، جبکہ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی فاروقی﷫ کے مکتوبات شریف سے یہ بات ہر طرح ثابت ہے کہ دو گروہوں کا تذکرہ آپ کی تحریروں میں ضمنی طور پر نہیں آیا بلکہ آپ شعوری طور پر مسلمانوں کی انفرادیت اور علیحدہ قومیت پر نہ صرف
Share:
keyboard_arrow_up