لیکن نپےتلے جملے آئین میں بھی موجود ہیں پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اسلام کے نفاذ کی خاطر وجود میں آیا اور پاکستان میں سوائے اسلام کے نفاذ کے کوئی اور نظام سوشلزم، ۔کمیونزم نہیں چل سکتا ۔ اب آئیے ہم وسیع تر حالات کی طرف نظر کریں ۔ پاکستان معرضِ وجود میں کیسے آیا ؟ یہ ایک بڑی تاریخ ہے۔ انگریز بڑا مکار ہے ایسا مکار ہے جس کا نقشہ اکبرالٰہ آبادی نے خوب کھینچا وہ کہتا ہے :
(حضرت) عیسیٰ سے کہہ دو کہ گدھے اپنے باندھ لیں۔کھیتی چَر گئے ہیں حضرت آدم کی تمام
۔کہ عیسائی حضرت آدم کی کھیتی چَر گئے ۔ ہندوستان کو تباہ کر دیا ، بر باد کر دیا، مسلمانوں کے ۔تشخص کو پامال کر دیا ۔ غرض یہ کہ بڑی عیاری اور مکاری سے ہندوستان میں گھسا اور جب تک ٹیپوسلطان زندہ رہا ، ٹیپوسلطان کے اِردگرد علاقوں پر انگریز تسلط پا چکا تھا اور کچھ پراس کی حکومت نہ بھی تھی تو انگریز کے معاون و مددگار تھے اور پھر مرہٹے اور نظام دکن پہلے ہی سلطان کے مخالف تھے مزید بر آں میر صادق جیسوں کی غداری، تو یہ سارے اسباب تھے کہ ٹیپوسلطان مہم بظاہر نا کامی کا شکار ہو گئی حقیقت میں بعد والوں کے دل میں آزادی کی نہ بجھنے والی چنگاری سلگا گئی ، اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو رحمت و رضوان کے پھولوں سے بھر دے، ٹیپو سلطان نے اپنی ایمانی اور ایقانی قوت سے انگریز کو ہندوستان پر مسلط ہونے سے روکا۔ لیکن مسلمانوں ۔کی بد قسمتی کہیے کہ مسلمان کے اپنے ہاتھوں مسلمانوں کے بظاہر خیر خواہ اور اصل میں دشمن حضرات نے انگریزوں سے مل کر ٹیپوسلطان کو شکست دی ۔ ٹیپو سلطان ۱۲۱۳ھ/۱۷۹۹ء میں انگریزوں سے جنگ ہار گیا ۔ مئی ۱۷۹۹ء / ۲۹ ذیقعدہ ۱۲۱۳ ھ میں اس مرد مجاہد ، مرد آہن کا وصال ہو جاتا ہے۔ وہ ایسا جرأت مند آدمی تھا کہ ہم نے تاریخ میں پڑھا کہ جس وقت ٹیپو سلطان کو شہید کیا جا رہا تھا یا اس کی شہادت کے وقت ابھی حیات کی رمق اس میں باقی تھی جس ۔کو ہم جانکنی کا عالم کہتے ہیں ۔ کسی پر جانکنی کا عالم ہو ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں ۔ آدمی میں ۔پکڑنے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن مؤرخین نے لکھا کہ ٹیپوسلطان جب زخمی حالت میں میدان جنگ میں پڑا ہوا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں تلوار تھی ۔ جب تک روح جسم میں باقی رہی تلوار اس کے ہاتھ میں رہی ۔ آپ غور فرمائیں کہ عین روح نکلنے اور جان نکلنے کے عالم میں ایک انگریز آگے بڑھا۔ بڑھنے کے بعد وہ اس مسلمان شیر کے ہاتھ سے تلوار چھیننا چاہتا تھایا کچھ ۔گستاخی کرنا چاہتا تھا تو جناب ! ٹیپوسلطان نے عین جانکنی کے عالم میں اپنی تلوار اٹھا کر انگریز کے دو ٹکڑے کر دیے اور کہا’’ ٹیپوسلطان میں حیات کی رمق باقی ہے اس سے تلوار اس وقت چھینی جائے گی جب حیات کی کوئی رمق ٹیپوسلطان میں باقی نہ ہو‘‘۔
ہم نے حالات میں پڑھا کہ اس کا وہ غلام اگر پیچھے سے دروازہ بند نہ کرتا اور ٹیپوسلطان کو انگریز نہ ۔گھیرتے اگر وہ قلعے کا پچھلا دروازہ بھی کھلا رہتا جس کے ذریعے سلطان اپنے قلعے میں جانا چاہتا تھا تو وہ محفوظ رہتا لیکن اُسے بند کر دیا گیا ۔ ٹیپوسلطان اس طرح اپنے غداروں کی سازشوں کے ذریعے موت کا نشانہ بن گیا ۔
اسی طرح آزادی کی بنیاد ڈالنے والا سب سے بڑا مجاہد جس کو تاریخ دانوں نے بھلا دیا، مورخین نے جس کے ساتھ انصاف نہیں کیا، لکھنے والوں نے جس کے ساتھ عدل نہیں کیا۔ آپ جانتے ہیں وہ کون ہے جس نے آزادی کا سب سے پہلا پتھر رکھا ؟ جس نے آزادی کا سب سے پہلے سنگ بنیا د رکھا ؟ وہ مرد مجاہد حضرت علامہ فضل حق خیر آبادیتھے ، جو دہلی آئے
Page 10 of 24

