Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 11 of 24
اور تاریخ سے آپ کی بہادر شاہ ظفر سے ملاقات بھی ثابت ہے۔
اور اس کے بعد میں علامہ فضل حق خیر آبادی﷫نے دیکھا کہ یہ انگریز ہمارےذہنوں میں چھا جائے گا۔ مسلمان کی نسل کشی کرے گا۔ ہمارے مذہب اورتشخص کو تباہ وبرباد کردے گا۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے ۱۸۵۷ء میں دہلی میں بیٹھ کر انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا ۔ جب فتویٰ مرتب کیا سب اکابر علماء سے اس فتویٰ پر دستخط کرائے۔ سارے اکابر علماء نے اس جہاد کے فتوے پر دستخط فرمائے ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی﷫کا جہاد کا فتویٰ جاری کرنا تھا کہ ہندوستان بھر میں انگریز کے خلاف ایک بہت بڑی عظیم لہر دوڑ گئی اور گلی گلی، قریہ قریہ، کوچہ ۔کوچہ، بستی بستی، شہر شہر وہ قتال وہ جدال ہوا کہ انگریز حکومت کی چولہیں ہل گئیں ۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ انگریز بڑا مکار اور خبیث ہے اس نے اپنی تدبیر میں لڑا کر بڑے بڑے لوگوں کو خرید کر اور ڈرا دھمکا کر بے شمار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اس نے تحریک کو کچل دیا۔ آزادی کی تحریک کو کچل تو دیا مگر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی نے آزادی کا سنگ بنیا درکھ دیا تھا اس کو بظاہر انگریز نے وقتی طور پر کچل دیا۔
انگریز کے کچلنے کے بعد کیا ہوا مسلمان دب گئے جوش ولولہ ٹھنڈا ہو گیا کیونکہ اکثر مجاہدینقتل کر دیے گئے تھے اور جس زمانے میں انگریزوں کے خلاف آواز اٹھی یہ ۱۸۵۷ء کی بات ہے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کی اس وقت ولادت ہو چکی تھی ، آپ اس وقت ایک برس کے تھے۔ آپ ۱۸۵۶ء میں پیدا ہوئے ۔ ۱۸۵۷ء میں انگریز گورنمنٹ کے خلاف جہاد شروع ہوا اور بریلی شریف میں جو کیمپ تھا وہاں مجاہدین کو تربیت دینے والے کون لوگ تھے؟ تاریخ پر نظر ڈالیے وہ حضرت علامہ مولانا نقی علی خان ﷫ (اعلیٰ حضرت کے والد ماجد ) ، حضرت علامہ مولانا رضا علی خان ﷫ (اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے دادا ) تھے۔ وہاں بریلی میں بھی مجاہدین کی صفیں درست ہوتیں۔ انگریزوں کے خلاف صفیں درست ہونے کے بعد انگریزوں پر حملے ہوا کرتے تھے لیکن جب اس تحریک کو کچل دیا گیا تو بظاہر یہ تحریک ٹھنڈی ہوگئی لیکن انگریز کے علم میں یہ بات تھی کہ تحریک کو تو ہم نے دبا دیا لیکن جذبۂجہاد لوگوں کے دلوں سے نکالنا معمولی کام نہیں۔ ملکہ وکٹوریہ، چڑیل نے ایک مکارانہ چال چلی وہ کیا؟ ہندوستان میں اعلان ہوا کہ جتنے بھی باغی ہیں سب کو معاف کر دیا گیا ہے۔ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی چونکہ قوم کو ابھی ان کی ضرورت تھیتو آپ انگریز کے ہاتھ ابھی نہیں آئے تھے۔ ظاہر ہے کہ مجاہدین کو خفیہ ہدایات جاری کرتے اور دہلی سے نکل گئے ۔ وہاں سے نکلنے کے بعد ۔کسی طرح علی گڑھ (Aligarh)پہنچ گئے اور علی گڑھ میں بھی ایک عرصہ تک چھپے رہے اور مجاہدین کی مدد کرتے رہے ۔ مجاہدین کو مشورے دیتے رہے۔ غرض یہ ہوا کہ جب انگریز نے یہ اعلان کر دیا کہ جتنے بھی باغی ہیں ہم نے سب کو معاف کر دیا ۔ پس یہ اعلان ہونا تھا کہ علامہ ۔فضل حق خیر آبادی ان کے دام میں آگئے ۔ انہوں نے سوچا کہ جب ملکہ وکٹوریہ نے اعلان کر دیا اب باہر آجانا چاہیے ۔ چنانچہ علامہ فضل حق خیر آبادی باہر آئے اور اپنے وطن خیر آباد پہنچے ۔ خیر آباد پہنچ کر چند دن ہی گزارے تھے کہ کسی نے مخبری کی کہ یہی وہ فضل حق ہیں جنہوں نے انگریز گورنمنٹ کے خلاف بغاوت کی اور جہاد کا فتویٰ دیا ، چنانچہ علامہ فضل حق خیر آبادی کو ۔گرفتارکیا گیا اور گرفتار کرنے کے بعد لکھنؤ لے جائے گئے ۔ اس کے بعد آپ پر دہلی یا لکھنؤ میں غداری کا مقدمہ چلا ، ہوا یہ کہ جس نے گواہی دی، گواہی دینے والے کے دل میں مولانا ۔فضل حق خیر آبادی﷫کےلیے کیا نرم گوشہ آیا اس نے ساری کاروائی مکمل ہونے کے بعد علامہ فضل حق خیر آبادی کو پہچاننے سے انکار کر دیا تا کہ ان کی جان بچ جائے۔ جس جج کے سامنے علامہ فضل حق خیر آبادی پیش کیے گئے اس جج نے علامہ فضل حق خیر آبادی سے کتابیں پڑھیں تھیں اور وہ چاہتا تھا کہ کوئی بہانہ ایسا نکل آئے جس سے علامہ فضل حق خیر آبادی کو رہا کر دیا جائے اب جو گواہیاں ہوئیں تو اس گواہ نے کہا کہ یہ فتویٰ جس عالمِ دین نے دیا ہے یہ وہ علامہ ۔فضلِ حق خیر آبادی نہیں ہیں یہ کوئی دوسرے فضلِ حق خیر آبادی ہیں جب یہ بیان ہوا اب آپ کے چھوٹنے اور رہا ہونے کی منزل قریب آئی لیکن جب علامہ فضل حق خیر آبادی کا بیان لیا گیا تو اس مرد مجاہد نے انگریز جج کے سامنے یہ اعتراف کیا’’جناب! اس گواہ نے مروت میں آکر مجھے پہچاننے سے انکار کر دیا ہے لیکن جہاد کا فتویٰ میں نے ہی دیا ہے۔ یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ میں یہ کہوں کہ یہ فتویٰ میرا نہیں ۔ میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ یہ فتویٰ جہاد میں نے دیا، جو سزا دی جائے میں اسے قبول کرتا ہوں‘‘۔
Share:
keyboard_arrow_up