Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 12 of 24
اب دیکھیے! جب علامہ نے خود اعتراف کر لیا یہ فتویٰ جہاد میں نے دیا۔ تو علامہ فضل حق خیر آبادی کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار کرنے کے بعد عمر قید سنائی گئی اور جزائر انڈمان بھیج دیا گیا، جس کو ہم کہتے ہیں کالے پانی کی سزا، وہاں انہیں۱۸۵۷ء میں بھیج دیا گیا۔ جب ان کو جزائر انڈمان (کالے پانی ) بھیج دیا گیاتو ان کے دونوں صاحبزادے علامہ عبد الحق اور دوسرے علامہ شمس الحق یہ خاموش نہیں بیٹھے اور کورٹ ، کچہری میں اپنے والد کے دفاع اور تحفظ کی خاطر مقدمہ بازی کرتے رہے یہاں تک کہ عزیز ان گرامی ۱۸۶۱ء صفر کا مہینہ تھا ، ساڑھے تین چار برس کے بعد جج نے علامہ فضل حق خیر آبادی کی رہائی کا آرڈر دیا کہ علامہ فضل حق خیر آبادی کو رہا کر دیا جائے ۔ علامہ شمس الحق ( آپ کے صاحبزادے) نے یہ آرڈر لے کر جزائر انڈمان کا سفر کیا۔ خدا ۔کا کرنا دیکھیے کہ جب علامہ شمس الحق جزائر انڈمان پہنچے اور خوش تھے کہ آج والد کی رہائی ہو جائے گی مگر جیسے ہی وہ جزائر انڈمان پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جنازہ تیار ہے لوگ جنازہ پڑھنے کے لیے تیار ہیں علامہ شمس الحق پہنچے فرمایا یہ جنازہ کس کا ہے؟ لوگوں نے کہا تحریک آزادی کے ہیر و علامہ فضل حق خیر آبادی﷫ آج علی الصبح انتقال کر گئے ۔ علامہ شمس الحق نے اپنے والد ماجد کے جنازہ میں شرکت کی ، علامہ فضل حق خیر آبادی کا مزار ، جزائر انڈمان ہی میں ہے ، ان کے صاحبزادے رہائی کا پروانہ لے کر واپس آگئے، یوں کہیے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی وہ مرد مجاہد ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اخلاص کا بدلہ یہ دیا کہ انگریز کے آزاد ۔کرنے سے پہلے اپنے بندے کو آزاد کر دیا تا کہ انگریز کی آزادی کا دھبہ ان پر نہ لگے اور وہ انگریز کے آزاد کرنے سے پہلے آزاد ہو گئے۔
عزیزانِ گرامی! دیکھیے یہ ہے سب سے پہلا مرد مجاہد جس نے جان دے کر آزادی کا سنگ بنیا د رکھا ۔ یہ اور ان کے ساتھی انہیں تاریخ نے صرف اور صرف اس لیے فراموش کر دیا کہ ان کا تعلق وہابی جماعت سے نہیں تھا، سنی جماعت سے تھا۔ اہلسنت و جماعت سے تھا۔ اسی لیے بطل حریّت علامہ فضل حق خیر آبادی کا نام تاریخ سے مٹانے کی اور محو کرنے کی کوشش کی گئی۔
علامہ فضل حق خیر آبا دی کون تھے؟ ہم سے نہیں مرزا غالب سے پوچھتے وہ گواہی دیں گے مرزا اسد اللہ خاں غالب اکثر اپنے کلام کی تصحیح علامہ فضل حق خیر آبادی سے کرایا کرتے تھے ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی کے والد ماجد حضرت علامہ فضل امام خیر آبادیتھے۔ چند اسباق مرزا غالب نے ان سے بھی پڑھے۔ علامہ فضل حق خیر آبادی سے بھی کچھ پڑھا اور جو اشعار اس نے کہے ہیں اس میں ایک طرح سے وہ علامہ فضل حق خیر آبادی کے تلمیذ ہیں ۔ لوگوں نے جو یہ کہا کہ ان کا تعلق بھی وہابی گروپ سے تھا۔ یہ بالکل غلط ہے ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی کا ایک عظیم الشان رسالہ ’’امتناع النظیر‘‘ ہے ۔ ایک مسئلہ نکل چلا ، اس کی تفصیل تو طویل ہے مختصر خاکہ اپنے ذہن میں بٹھائے ۔ امام الوہابیہ اسماعیل دہلوی نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں لکھا کہ ’’اللہ تبارک و تعالیٰ اگر چاہے تو ایک آن میں کروڑوں محمد کو پیدا کر دے‘‘ (معاذ اللہ ) جب اس نے یہ لکھا تو علامہ فضل حق خیر آبادی نے اس کی گرفت کی۔ اس سے مناظرہ کیا، اس مسئلے میں اس سے اختلاف کر کے کتابیں لکھیں کہ اس میں اہلسنت کا موقف کیا ہے؟ بہت فنی مسئلہ ہے لیکن آسان کر کے بیان کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّیْنَ کہ ہم نے اپنے پیارے مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا اُنکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ خود رب کریم ارشاد فرماتا ہے: لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ ہماری باتیں بدلی نہیں جاتیں ۔
Share:
keyboard_arrow_up