خود رب کریم ارشاد فرماتا ہے:
لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ
ہماری باتیں بدلی نہیں جاتیں ۔
علمائے اہلسنّت کا مؤقف یہ تھا کہ جب رب کریم فرماتا ہے کہ حضور ﷺ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں تو یہ کہنا کہ ایک آن میں اللّٰہ چاہے کروڑوں محمد کو پیدا کر دے یہ مسئلہ غلط ہے۔
چنانچہ اس مسئلے میں دونوں کا مناظرہ ہوا اور اسماعیل دہلوی کو بڑی زبردست شکست ہوئی اور علامہ فضل حق خیر آبادی نے امتناع النظیر پر پوری کتاب لکھی وہ کتاب اس بات کی گواہ ہے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی کا وہابی گروپ سے قطعاً تعلق نہیں تھا بلکہ ان کا تعلق اہلسنت و جماعت سے ہی تھا۔
جس زمانے میں مسلمان انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اس زمانہ میں سید احمد رائے بریلوی یہ انگریزوں کے مفاد میں کام رہے تھے چنانچہ مقالات سید احمد مترجم سخاوت مرزا، ص ۳۲ مطبوعہ نفیس اکیڈمی، کراچی میں سید احمد رائے بریلوی کا اپنا کلام موجود ہے کہ ’’سرکار انگریزی سے ہمیں کوئی مخاصمت ہے اور نہ کوئی جھگڑا ہے، کیونکہ ہم تو اس کی رعایا ہیں بلکہ ہم کو تو اس کی حمایت میں رعایا کے مظالم کا استیصال کرنا ہے‘‘ ۔
اسماعیل دہلوی یہ انگریزوں کے مفاد میں کام کر رہے تھے اور انگریز کی اجازت و تعاون سے سرحد کے غیور مسلمانوں کو کافر و منافق قرار دے کر ان سے لڑ رہے تھے۔
رشید احمد گنگوہی یہ انگریزوں کے مفاد میں کام کر رہے تھے۔ آپ تذکرۃ الرشید اٹھا کر دیکھیے جگہ جگہ انگریز حکومت کو سرکار انگریز کہا اور یہ کہا کہ میں سرکار انگریز سے تو بغاوت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ غرض مجھے تو ضمناً یہاں یہ سمجھانا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان، متحدہ ہندوستان میں جو آزادی کی لہر دوڑائی تو سب سے پہلا شخص جس نے اس کا سنگ بنیاد رکھا وہ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ ہیں اور ان کا تعلق اہلسنت سے ہے۔ الحمد للّٰہ! اہلسنت کو یہ فخر حاصل ہے کہ انگریز کے زمانے میں جنگ آزادی کرنے والے ان کے خلاف جہاد کافتویٰ دینے والے حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ ہیں ۔ اور ان کا وصال ۱۸۶۱ء میں ہوا ۔
اور اس جنگ میں حضرت علامہ علیہ الرحمہ کے ہمنوا مجاہد اعظم مولانا سید کفایت علی کافی مراد آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ تھے، جو عاشق رسول ﷺ اور اسلام کے سچےسپاہی تھے اور آپ آخر وقت تک باطل کے آگے جھکے نہیں، یہاں تک کہ آپ کو ۳۰؍ اپریل ۱۸۵۸ء کو مراد آباد میں پھانسی دے دی گئی، پھانسی کے وقت حضرت کی زبان پر جو اشعار تھے ان میں سے پہلا شعر ہے:
” کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللّٰہ کا دین حسن رہ جائے گا‘‘
اور مولانا عبدالجلیل علی گڑھی جو انگریز کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے اور جامع مسجد علی گڑھ میں مدفون ہیں اور مجاہد اعظم مولانا سید احمد اللّٰہ شاہ شہید مدراسی جنہوں نے میدان کارزار میں۱۳؍ذیقعدہ ۱۲۷۵ھ کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔
ان کے علاوہ بے شمار علماء کرام ایسے بھی جنہوں نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جیسا کہ حضرت مولانا صدرالدین آزردہ وغیرہ اور ان سے بعض تو ایسے ہیں کہ جن کے نام بھی محفوظ نہ رہ سکے، ظالم تاریخ نویسوں نے کیا ظلم ڈھایا کہ جنہوں نے قربانیاں دیں، جنگ آزادی میں تکلیفیں، اذیتیں، مصیبتیں برداشت کیں، ان کا نام تک تاریخ کے اوراق کی زینت نہ بنے اور جو عوام کے غدار اور انگریز کے وفادار تھے ان کو مجاہد اور جنگ آزادی کا ہیرو بنا دیا ۔
مولانا محمد علی جوہر دوسرے مولانا شوکت علی اور اسی قسم کے حضرات حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے ہاتھوں میں میدان سیاست آیا، اب کیا ہوا ؟ انگریز کو ظلم کر کے ایک عرصہ بیت گیا تھا۔
اور اس عرصے میں یہ مسلم لیڈر آپس میں سر جوڑ کر ساتھ بیٹھتے کہ کیا کرنا چاہیے انگریز سے نجات حاصل کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟ انگریز کو یہاں سے بھگانے کے لیے کیا طریقہ استعمال کیا جائے؟

