Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 13 of 24
علمائے اہلسنّت کا مؤقف یہ تھا کہ جب رب کریم فرماتا ہے کہ حضور ﷺ نبوت کے ختم ۔کرنے والے ہیں تو یہ کہنا کہ ایک آن میں اللہ چاہے کروڑوں محمد کو پیدا کر دے یہ مسئلہ غلط ہے۔ چنانچہ اس مسئلے میں دونوں کا مناظرہ ہوا اور اسماعیل دہلوی کو بڑی زبر دست شکست ہوئی اور علامہ فضل حق خیر آبادی نے امتناع النظیر پر پوری کتاب لکھی۔ وہ کتاب اس بات کی گواہ ہے کہ علامہ فضل حق خیر آبادی کا وہابی گروپ سے قطعاً تعلق نہیں تھا بلکہ ان کا تعلق اہلسنت و جماعت سے ہی تھا ۔
جس زمانے میں مسلمان انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اس زمانہ میں سید احمد رائے بریلوی یہ انگریزوں کے مفاد میں کام رہے تھے چنانچہ مقالات سید احمد مترجم سخاوت مرزا، ص ۳۲ مطبوعہ نفیس اکیڈمی، کراچی میں سید احمد رائے بریلوی کا اپنا کلام موجود ہے کہ ’’سرکار انگریزی سے ہمیں کوئی مخاصمت ہے اور نہ کوئی جھگڑا ہے، کیونکہ ہم تو اس کی رعایا ہیں بلکہ ہم کوتو اس کی حمایت میں رعایا کے مظالم کا استیصال کرنا ہے‘‘ ۔ اسماعیل دہلوی یہ انگریزوں کے مفاد میں کام کر رہے تھے اور انگریز کی اجازت و تعاون سے سرحد کےغیور
مسلمانوں کو کافر و منافق قرار دے کر ان سے لڑ رہے تھے ۔رشید احمد گنگوہی یہ انگریزوں کے مفاد میں کام کر رہے تھے۔
آپ تذکرۃ الرشید اٹھا کر دیکھیے جگہ جگہ انگریز حکومت کو سر کا رانگریز کہا اور یہ کہا کہ میں سرکار انگریز سے تو بغاوت کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔

غرض مجھے تو ضمناً یہاں یہ سمجھانا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان ، متحدہ ہندوستان میں جو آزادی کی لہر دوڑائی تو سب سے پہلا شخص جس نے اس کا سنگ بنیا د رکھا وہ علامہ فضل حق خیر آبادی﷫ ہیں اور ان کا تعلق اہلسنت سے ہے۔ الحمد للہ ! اہلسنت کو یہ فخر حاصل ہے کہ انگریز کے زمانے میں جنگ آزادی کرنیوالے ان کے خلاف جہاد کافتویٰ دینے والے حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی﷫ہیں ۔ اور ان کا وصال ۱۸۶۱ء میں ہوا ۔ اور اس جنگ میں حضرت علامہ ﷫ کے ہمنوا مجاہد اعظم مولانا سید کفایت علی کافی مراد آبادی﷫تھے ، جو عاشق رسول ﷺ اور اسلام کے سچےسپاہی تھے اور آپ آخر وقت تک باطل کے آگے جھکے نہیں، یہاں تک کہ آپ کو ۳۰؍ اپریل ۱۸۵۸ء کو مراد آباد میں پھانسی دے دی گئی، پھانسی کے وقت حضرت کی زبان پر جواشعار تھے ان میں سے پہلا شعر ہے : ” کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا‘‘ اور مولانا عبدالجلیل علی گڑھی جو انگریز کے خلاف جہاد ۔کرتے ہوئے شہید ہوئے اور جامع مسجد علی گڑھ میں مدفون ہیں اور مجاہد اعظم مولانا سید احمد اللہ شاہ شہید مدراسی جنہوں نے میدان کارزار میں۱۳؍ذیقعدہ ۱۲۷۵ھ کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کے علاوہ بے شمار علماء کرام ایسے بھی جنہوں نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لیا جیسا کہ حضرت مولانا صدرالدین آزردہ وغیرہ اور ان سے بعض توایسے ہیں کہ جن کے نام بھی محفوظ نہ رہ سکے، ظالم تاریخ نویسوں نے کیا ظلم ڈھایا کہ جنہوں نے قربانیاں دیں ، جنگ آزادی میں تکلیفیں ، اذیتیں ، مصیبتیں برداشت کیں ، ان کا نام تک تاریخ کے اوراق کی زینت نہ بنے اور جو عوام کے غدار اور انگریز کے وفادار تھے ان کو مجاہد اور جنگ آزادی کا ہیر و بنا
دیا ۔مولانا محمد علی جوہر
دوسرے مولانا شوکت علی
اور اسی قسم کے حضرات حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلیکے ہاتھوں میں میدان سیاست آیا ، اب کیا ہوا ؟ انگریز کو ظلم کر کے ایک عرصہ بیت گیا تھا۔ اور اس عرصے میں یہ مسلم لیڈر آپس میں سر جوڑ کر ساتھ بیٹھتے کہ کیا کرنا چاہیے انگریز سے نجات حاصل کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟ انگریز کو یہاں سے بھگانے کے لیے کیا طریقہ استعمال کیا جائے؟
Share:
keyboard_arrow_up