Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 14 of 24
تحریک کو سمیٹتے ہوئے عرض کرتا ہوں تحریکیں تو بہت چلیں، پہلے تحریک یہ چلی کہ انگریز کو کیسے نکالا جائے ؟ ہندو اور مسلم میں اتحاد ہو جائے ۔ ہندو اور مسلمان یہ دونوں متحد ہو کر تحریک چلائیں کہ ہم متحد ہیں انگریز کو نکالا جائے جب یہ تحریک اپنے عروج پر پہنچے گی تو ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ جب تحریک چلے گی تو اس کے دوران انگریز بھاگ جائے گا۔ جب انگریز بھاگ جائے گا تو انگریز اتنا سید ھا شریف النفس ہے کہ جب یہاں سے بھاگے گا تو یہ بیٹھ کر فیصلہ کرے گا کہ ہم نے حکومت مسلمانوں سے لی تھی ، بہادر شاہ ظفر سے لی تھی، ٹیپو سلطان سے چھینی تھی تو اب ہمیں یہ حکومت مسلمانوں کے حوالے کر کے جانا چاہیے۔
۔کیا انگریز جاتا تو اقتدار مسلمانوں کے سپرد کر کے جاتا؟ نہیں نہیں !! اس میں گاندھی اور اس کا ٹولہ ایمر جنسی میں ساؤتھ افریقہ سے آیا ، آنے کے بعد اس نے ہندوؤں کی کمان سنبھالی ۔ بڑی چالا کی اور چابک دستی سے اس تحریک کو اجاگر کیا کہ ہند و مسلم بھائی بھائی کہ پہلے انگریز کو یہاں سے نکالا جائے۔
آپ جانتے ہیں اس کے مضر اثرات کیا ہوئے ؟؟ بڑے بڑے ہمارے لیڈرگاندھی کی آندھی میں بہہ گئے اور آپ کو سن کر حیرت ہوگی مولا نا محمد علی جو ہر گاندھی کی آندھی میں بہہ گئے، مولانا شوکت علی، جناب مولانا عبد الباری لکھنوی فرنگی محلی بھی گاندھی کی آندھی میں بہہ گئے ، خود ہمارے بانی پاکستان محمد علی جناح صاحب بھی گاندھی کی آندھی میں بہہ گئے ۔ ہوا یہ کہ ہندو اور ۔مسلم میں اتنا گٹھ جوڑ ہو گیا، اتنا گٹھ جوڑ ہو گیا کہ اب جگہ جگہ نعرے لگنے لگے ”ہندو مسلم بھائی بھائی‘‘یہ نعرہ لگایا گیا کہ ہندو مسلم بھائی بھائی ، انگریز کو یہاں سے نکالا جائے۔ پھر ایک تحریک چلی اکھنڈ بھارت کیا مطلب؟ کہ مسلمان اور ہندو دونوں ایک ہو جائیں اور انگریز کو یہاں سے نکالیں یہ تحریک تھی اکھنڈ بھارت ۔ ایک تحریک چلی’ ترک موالات ‘وہ کیا تھی ؟ وہ یہ تھی کہ انگریز کے مال کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ انگریز کے جتنے عہدے ہیں سب واپس کر دیے جائیں جتنے اس کے بیج، بلے اعزازات کار کردگی کے تھے یہ سب انگریز کو واپس کر دیے جائیں۔ انگریز کی سرکاری ملازمتیں چھو ڑدی جائیں۔
اس تحریک کے چلنے میں جتنے مسلمان تھے سب نے اپنے بیج دے دیے، اپنے اعزازات واپس ۔کر دیے ، انگریزوں کی ملازمت چھوڑ دی جب ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ (Pact) معاہدہ ہوا تھا کہ سب انگریز کی ملازمت چھوڑ دیں گے تو معاہدہ یہ تھا کہ مسلمان ایک ہندو تین (3:1) ۔کا تناسب یعنی کوئی ایک مسلمان اپنے عہدہ کو چھوڑے تو تین ہندوؤں کو بھی چھوڑنا ہوتا کوئی ایک مسلمان نوکری چھوڑے تو تین ہندو نوکری چھوڑ دیں کیونکہ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندو اکثریت میں تھے ۔ اب چاہیے تو یہ تھا ایک مسلمان کے بدلے تین ہندو نوکریاں چھورتے ۔مگر اس ہند و بد معاش نے ایسا ہی کیا جیسا کہ ان کے لیڈروں نے ان کے کانوں میں کھوپ رکھا تھا۔ مسلمان تو معاہدےکے تحت نوکریاں چھوڑنے لگ گئے ۔ اعزاز واپس کرنے لگ گئے یہاں تک کہ آپ کو حیرت ہوگی کہ ہمارے یہاں پاکستان میں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر ہے۔ انگریز کے زمانہ میں وکٹوریہ کراس (Victoria Cross) تھا ۔ یہ انتہائی فوجی اعزاز تھا اور وہ وکٹوریہ کر اس ایسا اعزاز تھا کہ جب آدمی لگا کر ہندوستان میں وائسرائے (Viceroy) کے سامنے چلا جائے تو اس کے بیچ وکٹوریہ کر اس کو دیکھ کر وہ کھڑے ہو کر اس کا ادب کرتا تھا۔ ۔گورنر کے پاس چلا جائے وہ کھڑا ہو جائے ۔ بڑی بڑی جگہ پر چلا جائے اس اعزاز کے پاس میں وہ سب کے سب کھڑے ہو جائیں ۔ جس کو یہ اعزاز ملتا اس کو بڑی مراعات حاصل تھیں۔ ساری زندگی کےلیےVIP ہی نہیں بلکہ VVIP (Very Very Important Person) اہم ترین شخصیت بن جائے، گویا کہ وہ بہت بڑا اعزاز تھا اس کو تک لوگوں نے واپس کر دیا ۔
Share:
keyboard_arrow_up